BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاسوسی کے الزام میں دو افراد قتل

وزیستان میں قبائلی (فائل فوٹو)
وزیرستان میں حکومت یا امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ذبح کر کے ہلاک کیا جاتا رہا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کو دو افراد کی سربریدہ لاشیں ملی ہیں۔ دونوں لاشوں کے ساتھ تحریری خط بھی ملے ہیں جن کے مطابق ان افراد کو امریکہ اور پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ شمالی وزیرستان کا کہنا ہے کہ بدھ کو تحصیل میرعلی کے قریب نوراک کے علاقے سے ایک سربریدہ لاش ملی ہے۔ لاش کو ایک صندوق میں بند کر کے پھینکا گیا تھا۔ حکام کے مطابق صندوق پر ہلاک ہونے والے شخص کا مکمل پتہ لکھا ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص کا نام بادشاہ وزیر بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق لاش کے ساتھ اردو زبان میں تحریر ایک خط بھی ملا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بادشاہ وزیر ایک شیطان صفت اور منافق انسان تھا جو کافی عرصہ سے امریکہ اور پاکستان کے لیے جاسوسی کا کام کرتا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور امریکہ دوست منافق کے لیے جاسوسی کرنے والوں کا یہی حشر ہوگا۔ خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر آئندہ بھی کسی نے امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کیا تو وہ ہمارا نشانہ ہوگا۔

اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل سراروغہ میں ایک پہاڑی نالے سے بھی ایک لاش ملی ہے جس کا سر تن سے جدہ کر دیا گیا ہے۔ لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والوں کا یہی حشر ہوگا۔ مزید یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق کہاں سے ہے اور لاش یہاں کیسے پہنچی۔ البتہ مقامی لوگوں کے مطابق لاش کسی مقامی قبائل کی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں اس طرح سر تن سے جدہ کر کے ہلاکتوں کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے حکومت یا امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ذبح کر کے ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں میران شاہ کے قریب ایک چیک پوسٹ پر حملہ ہوا ہے اور میرعلی کے قریب ایک قافلے پر بھی حملہ ہوا ہے لیکن دونوں واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد