مانسہرہ میں سرکس بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع مانسہرہ میں حکام نے عوامی تفریح کے لیے جاری اس سرکس کو بند کر دیا ہے جس پر جمعرات کو ایک مقامی عالمِ دین کی قیادت میں درجنوں مشتعل افراد نے حملہ کیا تھا۔ ضلع مانسہرہ کے پولیس سربراہ مظہرالحق کاکا خیل نے بی بی سی کو سرکس کی بندش کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یونین کونسل کے ناظم نے اس سلسلے میں پولیس سے کوئی اجازت نہیں لی تھی۔ان کے بقول رمضان کے مہینے کے دوران سرکس لگانے یا ناچ گانے کی محفلوں پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔ پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ جمعرات کے روز جامع مسجد کے پیش امام مولانا وقارالحق اور یونین کونسل کے ناظم ظاہر شاہ کی قیادت میں درجنوں مشتعل افراد نے سرکس پر حملہ کر دیا تھا اور وہاں پر موجود کرسیوں کو توڑنے کے علاوہ دیگر ساز وسامان کو نقصان پہنچایا تھا۔
سرکس کے مالک محمد شفیق نے جیعت علماء اسلام کے مقامی سربراہ اور مرکزی جامع مسجد کے امام مولانا وقارالحق اور یونین کونسل کے ایک ناظم طاہر شاہ کیخلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ پولیس کے سربراہ مظہر الحق کاکا خیل کے مطابق دونوں ملزمان روپوش ہوگئے ہیں۔ان کے بقول پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ہے کیونکہ ان کے کیخلاف درج ہونے والا مقدمہ سنگین نوعیت کا نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو مولانا وقارالحق اور یونین کونسل کے ایک ناظم کی سربراہی میں مشتعل افراد نے سرکس پر اس لیے حملہ کیا تھا کیونکہ بقول ان کے سرکس کے ذریعے علاقے میں مبینہ طور پر’ فحاشی و عریانی‘ پھیلائی جا رہی ہے۔ مولانا وقارالحق نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فحاشی اور عریانی کی روک تھام کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے مانسہرہ میں سرکس لگانے پر علماء اور ضلعی انتظامیہ نے متفقہ طور پر پابندی لگائی ہوئی تھی ۔ تقریباً سات سال کی پابندی کے بعد ضلع مانسہرہ میں گزشتہ ماہ پہلی بار سرکس لگایا گیا تھا جس کو بھی مقامی دینی علماء کے مبینہ دباؤ کی وجہ سے بند کرنا پڑا تھا۔ تاہم جمعرات کو سرکس پر ہونے والا حملہ ضلع مانسہرہ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ | اسی بارے میں ڈنڈے سے سرکس بند کرا دیا27 January, 2004 | پاکستان ’خاتون وزیرکوقتل کرکےجہاد کیا ہے‘21 February, 2007 | پاکستان گوجرانوالہ: دوڑ روکنے پر جھگڑا03 April, 2005 | پاکستان ’نرگس زندہ باد‘: گرفتاری اور رہائی24 October, 2003 | پاکستان میلہ چراغاں کے کئی رنگ02 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||