BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2004, 21:43 GMT 02:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈنڈے سے سرکس بند کرا دیا

شکارپور
مذہبی کارکنوں نے ایک بڑے جلوس کی شکل میں مارچ بھی کیا

سندھ کے شہر شکارپور میں عوامی تفریح کے لئے چار روز سے جاری سرکس جمیعت علمائے اسلام کے ڈنڈا برداروں نے بقول ان کے زبردست احتجاج کے بعد منگل کو بند کرا دیا۔

پیر کے روز متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعت جمیعت علمائے اسلام کی اپیل پر شکارپور شہر میں مظاہرہ کیا گیا۔جس میں ضلع بھر سے مختلف مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والےسینکڑوں ڈنڈا بردار کارکنوں نے شرکت کی۔

صبح سے ہی لوگ ریلوے اسٹیشن کے قریب مدرسہ دارالعلوم مدینہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ صورتحال کے پیش نظر ضلعی پولیس کے اعلی افسران نے مدرسے پہنچ کر رہنماؤں سے کہ وہ احتجاجی مظاہرہ نہ کریں لیکن مذہبی جماعت کے رہنماؤں نے انتظامیہ کی بات ماننے سے انکار کردیا۔

بعد میں جے یو آئی کے رہنما مولانا عبداللہ پہوڑ کی رہنمائی میں سینکڑوں ڈنڈا بردار لوگوں نے جلوس نکالا اور مظاہرین نے ٹرک اڈے کے قریب واقع سرکس کا گھیراؤ کر لیا اور وہاں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

مظاہرین ’فحاشی اور جوے کے اڈے بند کرو‘ اور’الجہاد الجہاد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

ضلعی پولیس افسران نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کے لیڈروں سے پانچ گھنٹے مذاکرات کیے اور منت سماجت کی۔ بعد میں ایک تحریری معاہدہ کیا گیا کہ دو دن کے اندر سرکس بند کردیا جائےگا۔جس کے بعد گھیراؤ اور دھرنا ختم کیا گیا۔

اس سے قبل انتظامیہ نے شہر میں حفاظتی اقدامات سخت کرلیے تھے اور اہم چوراہوں پر پولیس نفری کھڑی کردی گئی تھی۔

جے یو آئی کے رہنما حاجی نثار میمن نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نے دو دن کی مہلت مانگی ہے تاہم ان دو دنوں کے دوران سرکس میں جوا، ناچ اور گانا وغیرہ نہیں ہوگا۔

جے یو آئی کے ایک اور رہنما بخت اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے پلیٹ فارم سے فحاشی اور جوے اور جیسی سماجی برایوں کے خلاف احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائےگا۔

دو دن کی مہلت کے باوجود سرکس کی انتظامیہ نے منگل کے روز سرکس بند کرکے اپنا سامان لپیٹ لیا۔ سرکس کے انچارج آصف اور سلیم کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت سرکس کے خلاف احتجاج کر کے اپنی سیاست چمکانا چاہ رہی ہیں۔

شکارپور
پولیس نے مذاکرات کے بعد سرکس بند کرانے کے لیے دو دن کی مہلت مانگی لیکن سرکس والوں نے سرکس پہلے ہی بند کر دیا

انہوں نے کہا کہ سرکس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ موت کا کنواں اور کرتب دکھائے جارہے تھے۔ ہم نے اس لئے وقت سے پہلے سرکس بند کردیا کہ انتظامیہ پریشان تھی۔

ڈی پی او انویسٹیگیشن فداحسین مستوئی کا کہنا ہے کہ سخت احتجاج کے بعد شہریوں کے مشترکہ فیصلے کے بعد سرکس بند کردیا گیا ہے۔

یہ سرکس ایک ریٹائرڈ میجر کے پلاٹ پر لگایا گیا تھا جس کی ادائیگی پینتیس ہزار روپے کردی گئی تھی۔

اس سے قبل پنجاب کے بعض شہروں میں مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے نتیجے میں سرکس بند کردیے گئے تھے۔ تاہم سندھ میں ماضی قریب میں سرکس کے خلاف احتجاج اور اس کے نتیجے میں اس کو بند کرنے کا یہ پہلا واقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد