بائیس سال کی بے ہوشی کے بعد انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ کا ایک شخص تقریباً بائیس سال تک بے ہوش رہنے کے بعد جمعرات کو انتقال کر گیا۔ اسے جمعہ کو اس کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ضلع نوشہرہ میں چراٹ کے ایک گاؤں شاہ کوٹ کا شبیر احمد ستمبر انیس سو پچاسی میں سڑک کے ایک حادثے کے بعد مسلسل بے ہوشی میں چلا گیا تھا۔ اسے یہ حادثہ موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے چارسدہ روڈ پر اس وقت پیش آیا تھا جب وہ اسلامیہ کالج میں فورتھ ائر کا طالب علم تھا اور امتحان کی فیس جمع کرانے کے لیے جا رہا تھا۔ اس حادثے میں اسے سر پر چوٹیں آئی تھیں۔ بعد میں وہ ایک برس تک پشاور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہا لیکن جب ڈاکٹر اسے بے ہوشی سے نکالنے میں ناکام ہو گئے تو اسے گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ شبیر کی شادی حادثے سے سات ماہ قبل ہی ہوئی تھی اس کی بیوی نے تمام عرصے اس کی تیمار داری کی۔ شبیر کو ایک پائپ کے ذریعے خوراک دی جاتی یھی جو شہد، یخنی اور پھلوں کے جوس پر مشتمل تھی۔ اس کے بھائی حسن احمد نے بتایا کہ’ہم نے شبیر کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ بس یہ تو اللہ کو منظور تھا جو اسے ایسی زندگی ملی‘۔ حسن کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی نے اس کی ایسی مثالی خدمت کی کہ اتنے عرصہ بستر پر لیٹے رہنے کے باوجود اسے کوئی زخم نہیں آیا۔ چند برس قبل ایک نجی ٹی وی پر اس بے ہوش شخص پر رپورٹ نشر ہونے کے بعد دبئی سے بھی طبی ماہرین کی ٹیم نے آ کر اس کے علاج کی کوشش کی تھی تاہم انہیں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ حسن نے بتایا کہ بائیس برسوں میں اس کی حالت میں صرف اتنی تبدیلی آئی کہ وہ اگر ہاں کرنی ہوتی تو دایاں ہاتھ اور نہ کے لیے بایاں ہاتھ ہلانے لگا تھا۔ تاہم اس بیماری میں وہ کافی کمزور ہوگیا تھا۔ شبیر کے جنازے میں دوست احباب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||