شالامار باغ منصوبے کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں شالامار باغ کی بحالی کے منصوبہ پر مقامی آبادی نے احتجاج کیا ہے۔ تاریخی مغلیہ باغ کے گرد رہنے والے سینکڑوں مکینوں نے اتوار کو مظاہرہ اور بھوک ہڑتال کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ باغ کی بحالی کے لیے ان کے گھر مسمار نہ کیے جائیں جبکہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ نہ صرف شالامار باغ بلکہ اس سمیت لاہور میں واقع دو سو دیگر تاریخی مقامامت کی بحالی کے لیے ان کے گرد ناجائز تجاوزات پر بنائے گئے گھر اور دیگر تعمیرات کو مسمار کرنا پڑے گا۔ شہباز خان کے مطابق یہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم پر نہ صرف لاہور بلکہ ملک بھر میں کی جا رہی ہے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ نے شالامار باغ اور دیگر تاریخی مقامات کے گرد دو سو فٹ تک کی گئی تعمیرات گرانے کے لیے مکینوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ضلعی حکومت کی مدد سے اگست کے مہینے میں ہی تمام تعمیرات ہٹانے کی حکمت عملی تیار لی ہے۔
محکمۂ آثار قدیمہ کے نوٹس کے خلاف محلہ سک نہر اور شالامار باغ کے گرد قائم دیگر آبادیوں کے مکین سراپا احتجاج ہیں۔انہوں نے باغ کے دائیں طرف والی دیوار کے ساتھ بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کردیا ہے جس پر روزانہ درجنوں مکین احتجاج کرتے ہیں۔ اتوار کو علاقے کے عورتوں بچوں نے بھی احتجاج کیا اور محکمۂ آثارِ قدیمہ کے حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مکینوں نے محکمے کے نوٹس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے گھروں پر سیاہ پرچم لہرا دیے ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے گھر مسمار نہیں ہونے دیں گے، چاہے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
ان کے مطابق محکمۂ آثار قدیمہ کی اس کارروائی کی صورت میں پچاس ہزار کے قریب لوگ بےگھر ہو کر سڑک پر آجائیں گے۔ انہوں ن کہا کہ تمام مکینوں کے پاس مالکانہ حقوق، رجسٹریاں اور ایل ڈی اے کے این او سیز ہیں اور یہ سب قانونی طور ہر یہاں رہ رہے ہیں۔ کونسلر شہباز بھٹی نے خبردار کیا کہ ’اگر نوٹس واپس نہ لیے گئے تو پھر یہاں پر بھی لال مسجد جیسی کہانی ہوگی کیونکہ ہم مر تو جائیں گے لیکن گھر نہیں خالی کریں گے۔ چاہے بلڈوزر ہمارے اوپر کیوں نہ چڑھا دیے جائیں‘۔ علاقے کے ایک مکین چودھری محمد دین کا کہنا تھا کہ ’ہم قیام پاکستان کے وقت انڈیا سے اپنے گھر بار لٹا کر کیا یہاں اس لیے آئے تھے کہ یہاں بھی ہمیں بے گھر کیا جائے گا؟‘انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ ان سے انصاف کریں اور انہیں بے گھر ہونے سے بچائیں۔ ڈائریکٹر جنرل آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ ’صرف شالامار باغ ہی نہیں بلکہ شاہی قلعہ، مقبرہ جہانگیر، مسجد وزیر خان، سنہری مسجد سمیت لاہور میں واقع دو سو کے قریب آثار قدیمہ کے گرد دو سو فٹ تک قائم آبادیاں مسمار کی جائیں گی۔ ان کے مطابق جن کو بھی نوٹس دیے گئے ہیں وہ وہاں پر ناجائز تجاوزات کر کے آباد ہوئے تھے۔
تعمیرات کرتے وقت بھی ان کو پتا تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر وہاں گھر بنا رہے ہیں۔ اس وقت ان کو یہ خیال کرنا چاہیے تھا کہ وہ ناجائز تجاوزات کر رہے ہیں۔ کیونکہ قانون کے مطابق آثارِ قدیمہ کے گرد دو سو فٹ تک کوئی بھی عمارت تعمیر نہیں ہو سکتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی انسانی آبادی کو منتقل کرنے سے مسائل تو پیدا ہوں گے لیکن اس کے لیے صوبائی اور ضلعی حکومت نے ان کو معاوضہ دینے کی حکمت عملی طے کی ہے لہذا مکینوں کے لیے یہ سنہری موقعہ ہے اور انہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اگست کے مہینے تک یہ کارروائی مکمل کرنی ہے تاکہ آثارِ قدیمہ کو محفوظ کیا جا سکے۔ | اسی بارے میں تاریخی قبرستان کی بربادی03 April, 2007 | پاکستان گندھارا نوادرات کی واپسی08 March, 2007 | پاکستان پشاور میں سینما کے تحفظ کے لیے حکم05 March, 2007 | پاکستان پشاور: ایک اور سینما ہال مسمار 28 February, 2007 | پاکستان پشاور میوزیم کی سو سالہ تقریب04 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||