BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 16:57 GMT 21:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نو لینڈنگ اور نو فشنگ‘

ماہی گیر(فائل فوٹو)
یورپی یونین نے رواں برس اپریل میں پاکستان سے سمندری خوراک کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی
سندھ کے ماہی گیروں نے سمندری خوراک کی مناسب قیمتیں نہ ملنے پر سندھ بھر میں نو اگست کو ’نو لینڈنگ اور نو فشنگ‘ کے سلوگن کے ساتھ ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور اگلے مرحلے میں کے پی ٹی اور کیماڑی چینل کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ماہی گیروں کی تنظیم فشر مین ایکشن کمیٹی کے رہنماء محمد علی شاہ کے مطابق ماہی گیروں کو اُن کے شکار کا جو معاوضہ پندرہ سال پہلے دیا جا رہا تھا وہی آج بھی دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ڈیزل اور ماہی گیری میں استعمال ہونے والے سامان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

یورپی یونین نے رواں برس اپریل میں پاکستان سے سمندری خوراک کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جو اب تک جاری ہے۔ یورپی یونین نے پاکستان کے چونتیس پروسیسنگ یونٹ میں سے گیارہ پروسیسنگ یونٹوں کو بھی بلیک لسٹ قرار دے دیا تھا۔ بلیک لسٹ قرار دیے جانے والے ان یونٹوں کے ذریعے ہی یورپی ممالک کو سمندری خوراک برآمد کی جا رہی تھی۔

محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ دو ماہ کی پابندی کے بعد اگست میں دوبارہ شکار شروع ہوا مگر جونہی ماہی گیر واپس آئے تو خریداروں نے قیمت کئی گنا کم کر دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جس جھینگے کی قیمت کچھ روز پہلے تک پانچ سو روپے کلو تھی آج وہ سو روپے میں خریدا جا رہا ہے۔

ماہی گیروں کے اس مسئلے کے بارے میں پاکستان سی فوڈ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سردار محمد حنیف کا کہنا ہے کہ’ہمارا موقف واضع ہے۔ اگر ہمیں مچھلی فروخت کرنے یا برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تو ہم مال خرید کے کیا کریں گے۔ سردار حنیف کا کہنا تھا کہ مچھلی زیادہ مقدار میں آرہی ہے مگر ہمارے پاس اُس کی کھپت نہیں ہے اب تک جو مچھلی آئی وہ متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک بھیجی گئی ہے‘۔

سردار حنیف نے کہا کہ یہ صورتحال ماہی گیری کی صنعت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔’اس موسم میں شکار تو بہت ہے مگر اسے خریدے کون‘۔

ماہی گیروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت سمندری خوراک کی قیمت خود مقرر کرے اور اگر اوپن مارکیٹ سے مناسب قیمت نہ ملے تو مال حکومت ہی خرید لے جس طرح ایران میں ہوتا ہے۔

ماہی گیروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہیں نکالا گیا تو ہزاروں ٹن مچھلی اور جھینگا ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں
گوادر! کونسا گوادر؟
22 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد