’مستعفی ہونے کا مشورہ دوں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل جسٹس (ریٹائرڈ) ملک قیوم نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں اگر سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ چیف جسٹس کےخلاف ریفرنس بدنیتی کی بیناد پر دائر کیا گیا تھا تو وہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیں گے۔ ملک قیوم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں وفاقی حکومت کے وکیل تھے اور مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نےایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نےچیف جسٹس کی آئینی درخواست کو مانتے ہوئے ریفرنس کو ختم کر دیا تو وزیر اعظم کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ اٹارنی جنرل مقرر کیےجانے کےبعد پہلی مرتبہ سپریم کورٹ بلڈنگ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملک قیوم نے کہا کہ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس وزیر اعظم شوکت عزیز کے مشورے پر دائر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریفرنس نیک نیتی کے ساتھ دائر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں اگر یہ قرار دے دیاکہ ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا تو میں وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کا مشورہ دوں گا۔ ملک قیوم نے کہا کہ ان کے اٹارنی جنرل ہوتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جائے گا اور اگر دائر کیا گیا تو وہ اٹارنی جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں ریفرنس: ذمہ داری وزیراعظم کی؟08 June, 2007 | پاکستان ’پہلے جیسے اچھے تعلقات رہیں گے‘31 July, 2007 | پاکستان ڈِیل کی سیاست کے خاتمے کی اپیل31 July, 2007 | پاکستان مبینہ ڈِیل، پی پی کے وکلاء کا امتحان02 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||