صدر کے مشورے کا خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کی جانب سے کُل جماعتی کانفرنس بلائے جانے کی صلاح کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سینیٹر مشاہد حُسین نے کہا ہے کہ کانفرنس میں ملک کو درپیش دہشت گردی اور آئندہ انتخابات سے متعلقہ معاملات زیرِ غور آئیں گے۔ جمعرات کے دن اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سینیٹر مشاہد حُسین نے کہا کہ دہشت گردی ملک میں جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس تناظر میں صدر پرویز مشرف کی جانب سے کُل جماعتی کانفرنس بلائے جانے کا مشورہ خوش آئند بات ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی اخبارات کے مدیروں سے بُدھ کے روز اسلام آباد میں بات چیت کے دوران ملک کو درپیش موجودہ صورتِحال پر غور کرنے کے لیے کُل جماعتی کانفرنس بلائے جانے کے امکان کا عندیہ دیا تھا۔ مشاہد حُسین نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے باوجود حکومت نے ملک میں ایمرجینسی کے نفاذ کو خارج از امکان قرار دیا۔ حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو درپیش خطرات کو باہمی مقالمے اور قومی مفاہمت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اُن کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے ملک کو آگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اانہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے کو بغداد بننے سے بچانے کے لیے ملک میں مقالمہ اور مفاہمت کی بات ہونی چاہیے اور ملک کے تمام طبقات کو شدت پسندی اور انتہا پسندی سے نجات حاصل کرنے کے لیے مل بیٹھ کر غور کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’انتخابات وقتِ مقررہ پر ہونگے‘18 July, 2007 | پاکستان حکومتی جماعت میں اختلافات21 June, 2007 | پاکستان ’دھماکے کانشانہ چیف جسٹس تھے‘18 July, 2007 | پاکستان سفارت کاروں کو احتیاط کی ہدایت19 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||