BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 18:49 GMT 23:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘

سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایئرپورٹ پر موجود تھی
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا لاہور ضلعی بار سے خطاب کرنے کے لیے سنیچر کو لاہور آمد پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر والہانہ استقبال کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا لاہور ائر پورٹ پر استقبال کرنے کے لیے وکلاء کے نمائندوں منیر اے ملک، حامد خان، لاہور ضلعی بار کے صدر سید محمد شاہ، قومی اسمبلی کے ارکان، سابق جج، سیاسی جماعت اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ہزاروں کارکن موجود تھے۔

سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور لیبر پارٹی کے کارکن کافی بڑی تعداد میں موجود تھے جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی تعداد نسبتاً کم تھی۔

سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے چیف جسٹس کے ہوائی اڈے کی عمارت کے باہر آنے پر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے ’ڈیل‘ کے خلاف بھی نعرے بازی کی جواباً پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے وزیراعظم بے نظیر کے نعرے بلند کیے۔

جسٹس افتخار کے استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں نے ایک بڑے جلوس کی صورت اختیار کر لی
اس موقع ہر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ افتخار محمد چودھری کا آخری دورہ ہو۔

ایئرپورٹ سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ڈسٹرک بار کی طرف سفر شروع کیا تو ان کے استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں نے ایک بڑے جلوس کی صورت اختیار کر لی۔ اس جلوس میں ہر عمر کے لوگ اور ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔اس جلوس میں بے شمار گاڑیاں، وگنیں اور موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔

چیف جسٹس افتخار چودھری نے لاہور ایئرپورٹ سے لاہور کینٹ کچہری تک کا چھ کلومیٹر کا سفر طے کرنے پر پہلا پڑاؤ کیا۔ یہاں وہ گاڑی سے باہر نہیں آئے لیکن ان کے وکلاء اعزاز احسن اور علی احمد کرد نے تقریریں کیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کی پہلی منزل چیف جسٹس کی بحالی ہے اور دسری منزل شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد وہ وکلاء کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور جنرل مشرف ان کے جن خوابوں کو چکناچور کررہے ہیں ان کو پورا کیا جائے گا۔

 اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کی پہلی منزل چیف جسٹس کی بحالی ہے اور دسری منزل شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد وہ وکلاء کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور جنرل مشرف ان کے جن خوابوں کو چکناچور کررہے ہیں ان کو پورا کیا جائے گا۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ ’کارکنوں نے جو ہمارا ساتھ دیا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں، ہم ان کے بغیر کچھ نہیں تھے، ان کی جد و جہد ہماری رگوں میں خون کی طرح ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحریک سے سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کو اس لیے دور رکھا گیا ہے ’کیونکہ ہم عدالت میں پیروی کررہے ہیں۔ اور یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم وکالت اور عدالت پر انحصار نہیں کررہے ہیں بلکہ سیاست پر کررہے ہیں۔‘

اس موقع پر علی احمد کرد نے اپنی تقریر میں کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے بعد یہ تحریک ختم نہیں ہوجائے گی۔ ’یہ تحریک پاکستان کے کروڑوں عوام کی امید ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ہم گھر نہں بیٹھیں گے، آمریت کا خاتمہ کیا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل مشرف کی اقتدار میں موجودگی میں ’کوئی انتخاب منظور نہیں ہوگا، مشرف کو جانا ہوگا اور آئندہ جرنیل حکومت نہیں کرے گا۔‘

اسی بارے میں
’نئی صبح طلوع ہو چکی ہے‘
23 June, 2007 | پاکستان
چیف جسٹس کا دورہ منسوخ
28 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد