BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 July, 2007, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا فیصل آباد کی پہچان آلودگی؟

صنعتی فضلہ
شہر میں مقبول روڈ کی ایک فیکٹری سے بہنے والا فضلہ
فیصل آباد جو تقریباً تین دہائیاں قبل لائل پور تھا آج ایک صنعتی شہر کے نام جانا جاتا ہے۔ لیکن جسطرح ساٹھ لاکھ آبادی کے اس شہر میں صنعتی فضلہ پینے کے پانی اور زہریلی گیس فضا کو آلودہ کر رہی ہے وہ دن دور نہیں جب یہ شہر اپنی صرف اس ’خصوصیت‘ سے جانا جائے گا۔

’دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہمیں احتجاج کرتے ہوئے اور اور پینتیس میں سے صرف ایک فیکٹری ہمارے علاقے سے باہر منتقل کی گئی ہے اور اس کا سہرا ہمارے انگنت مظاہروں پر ہے‘۔ فیصل آباد کی مقبول روڈ کے رہائشی لالہ انورنے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لوگ کئی سالوں سے ان بڑی فیکٹریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بار بار محکمۂ ماحولیات کو درخواست دینے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

پودے بھی محفوظ نہیں
 فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ نہروں میں شامل ہونے سے نہ صرف اس علاقے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ گردو نواح میں اگائی جانے والی سبزیاں اور پھل بھی اس کے زہریلے اثرات سے محفوظ نہیں۔
ڈاکٹر محمد اشفاق
’یہ فیکٹریاں اپنا فضلہ علاقے سے گزرنے والے کھلے نالوں میں بغیر ٹریٹمنٹ کے پھینک دیتے ہیں جو پھر زمین میں جذب ہو کر پینے کے پانی کے نلوں میں سوراخ کر دیتا ہے۔

ڈسٹرکٹ آفیسر محکمۂ ماحولیات جاوید اقبال نے بتایا کہ یہاں پر تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جن میں سے کم سے کم ڈھائی سو ایسی ہیں جو خطرناک کیمیکلز اور زہریلی گیس خارج کرتی ہیں اور یہ تمام رہائشی علاقوں میں یا ان کے قریب واقع ہیں۔

جاوید اقبال نے بتایا کہ چھلے سال محمد آباد کالونی میں سیورج کا پانی واٹر سپلائی کے نلوں میں داخل ہو گیا تھا اور بچوں سمیت نو لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ محمد آباد کی رہائشی جنت بی بی نے کہا کہ وہ ایک سال سے بچوں کو ابلا ہوا پانی پلا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں ’حکومت کے اس بیان پر اعتبار نہیں کرتی کہ علاقے کے پائپ تبدیل کر دیے گئے ہیں‘۔

پانی برائے فروخت
’ان فیکٹریوں سے خارج ہونے والی گیسیں فضا کو آلودہ کر رہی ہیں اور قریبی آبادی کے لوگ سانس اور جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ یہ فیکٹریاں اپنا زہریلا فضلہ نالوں، نہروں اور تالابوں میں پھینک رہی ہیں‘۔

جاوید اقبال نے بتایا کہ محکمہ اب تک ان ’خطرناک‘ ڈھائی سو فیکٹریوں میں سے اٹھاون کو نوٹس جاری کر چکا ہے جس میں انہیں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے یا رہائشی آبادی سے منتقل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ ابھی ان نوٹسوں پر عملدرآمد نہیں ہوا اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

مقبول روڈ اور محمد آباد کے علاوہ کھڑیاں والا، نشاط آباد، عبداللہ پور، سرگودھا اور شیخوپورہ روڈ ایسے علاقے ہیں جن میں ان بڑی صنعتوں کی بھرمار ہے۔

ان علاقوں کے زیادہ تر رہائشی واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی(واسا) کا سپلائی کردہ پانی استعمال نہیں کرتے۔ وہ دس روپے فی گیلن کے حساب سے بازار سے پانی خریدتے ہیں۔ یہ پانی نہر کے کنارے الیکٹرک پمپ لگا کر زمین سے نکالا جاتا ہے۔

واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ
 چھیاسٹھ کروڑ روپے سے محکمہ نے واٹر سپلائی لائنز کو تبدیل کرنے پروگرام شروع کیا ہے جو اس سال جون تک مکمل ہونا تھا۔ ابھی تک منصوبے کے تحت محمد آباد میں پائپ تبدیل کیے گئے ہیں۔ محبوب الہی کے مطابق منصوبہ آئندہ جون تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ویسٹرن زون میں لگایا گیا ہے کو فیکٹریوں کے زہریلے پانی کو فلٹر کر کے دریائے چناب میں پھینک رہا ہے۔
محبوب الہی
مقبول روڈ کے صداقت علی نے بتایا کہ’میں ایک گیلن بھرنے کے عوض پانچ روپے پمپ مالک کو دیتا ہوں، اور پھر اسے اپنی گدھا گاڑی پر لوڈ کر کے روزانہ کے تقریباً ساٹھ سے اسّی گیلن پانی مختلف کالونیوں میں بیچتا ہوں‘۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایگریکچرل اینٹامولوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشفاق نے بتایا کہ ان فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ نہروں میں شامل ہونے سے نہ صرف اس علاقے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ گردو نواح میں اگائی جانے والی سبزیاں اور پھل بھی اس کے زہریلے اثرات سے محفوظ نہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کے ڈاکٹر زاہد یاسین نے بتایا کہ گندے پانی کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے تقریباً اسی سے ایک سو مریض جنرل ہسپتال روزانہ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال الائیڈ ہسپتال کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد شہر کے تیرہ دیہی ہیلتھ سنٹروں اور ایک سو ستر بنیادی ہیلتھ یونٹوں میں آتی ہے۔

آلودگی سے بیماریاں
 گندے پانی کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے تقریباً اسی سے ایک سو مریض جنرل ہسپتال روزانہ آتے ہیں۔ یہی صورتحال الائیڈ ہسپتال کی ہے اور مریضوں کی ایک بڑی تعداد شہر کے تیرہ دیہی ہیلتھ سنٹر اور ایک سو ستر بنیادی ہیلتھ یونٹوں میں جاتی ہے۔
ڈاکٹر زاہد یاسین
ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس اے، بی، سی اور ای کی بیماری پورے شہر میں عام ہے۔ ’فیصل آباد ان چند اضلاع میں سے ایک ہے جہاں ہیپاٹائٹس اے اور ای کے مریض انگنت ہیں اور اس کی واحد وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے‘۔

محکمہ ماحولیات کے ایک سروے کے مطابق شہر میں زیر زمین پانی میں کھارا پن کے علاوہ دس فیصد فلورائیڈ اور نو فیصد بد ذائقہ پن موجود ہے۔ ماہر ماحولیات اختر اعوان کا کہنا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ اور ایمشن پلانٹ ہی اس مسئلے کا واحد ہے۔ واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر محبوب الہی نے بتایا کہ چھیاسٹھ کروڑ روپے سے محکمہ نے واٹر سپلائی لائنز کو تبدیل کرنے پروگرام شروع کیا ہے جو اس سال جون تک مکمل ہونا تھا۔ ابھی تک منصوبے کے تحت محمد آباد میں پائپ تبدیل کیے گئے ہیں۔ محبوب الہی کے مطابق منصوبہ آئندہ جون تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ویسٹرن زون میں لگایا گیا ہے جو پندرہ سے بیس فیصد فیکٹریوں کے زہریلے پانی کو فِلٹر کر کے دریائے چناب میں پھینک رہا ہے۔

آلودگیچِین کا منصوبہ
معاشی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی ساتھ ساتھ
ترقی اور ماحول
چین میں ہرہفتے میں دو کارخانے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد