کیا فیصل آباد کی پہچان آلودگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد جو تقریباً تین دہائیاں قبل لائل پور تھا آج ایک صنعتی شہر کے نام جانا جاتا ہے۔ لیکن جسطرح ساٹھ لاکھ آبادی کے اس شہر میں صنعتی فضلہ پینے کے پانی اور زہریلی گیس فضا کو آلودہ کر رہی ہے وہ دن دور نہیں جب یہ شہر اپنی صرف اس ’خصوصیت‘ سے جانا جائے گا۔ ’دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہمیں احتجاج کرتے ہوئے اور اور پینتیس میں سے صرف ایک فیکٹری ہمارے علاقے سے باہر منتقل کی گئی ہے اور اس کا سہرا ہمارے انگنت مظاہروں پر ہے‘۔ فیصل آباد کی مقبول روڈ کے رہائشی لالہ انورنے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لوگ کئی سالوں سے ان بڑی فیکٹریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بار بار محکمۂ ماحولیات کو درخواست دینے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
ڈسٹرکٹ آفیسر محکمۂ ماحولیات جاوید اقبال نے بتایا کہ یہاں پر تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جن میں سے کم سے کم ڈھائی سو ایسی ہیں جو خطرناک کیمیکلز اور زہریلی گیس خارج کرتی ہیں اور یہ تمام رہائشی علاقوں میں یا ان کے قریب واقع ہیں۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ چھلے سال محمد آباد کالونی میں سیورج کا پانی واٹر سپلائی کے نلوں میں داخل ہو گیا تھا اور بچوں سمیت نو لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ محمد آباد کی رہائشی جنت بی بی نے کہا کہ وہ ایک سال سے بچوں کو ابلا ہوا پانی پلا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں ’حکومت کے اس بیان پر اعتبار نہیں کرتی کہ علاقے کے پائپ تبدیل کر دیے گئے ہیں‘۔
جاوید اقبال نے بتایا کہ محکمہ اب تک ان ’خطرناک‘ ڈھائی سو فیکٹریوں میں سے اٹھاون کو نوٹس جاری کر چکا ہے جس میں انہیں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے یا رہائشی آبادی سے منتقل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ ابھی ان نوٹسوں پر عملدرآمد نہیں ہوا اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ مقبول روڈ اور محمد آباد کے علاوہ کھڑیاں والا، نشاط آباد، عبداللہ پور، سرگودھا اور شیخوپورہ روڈ ایسے علاقے ہیں جن میں ان بڑی صنعتوں کی بھرمار ہے۔ ان علاقوں کے زیادہ تر رہائشی واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی(واسا) کا سپلائی کردہ پانی استعمال نہیں کرتے۔ وہ دس روپے فی گیلن کے حساب سے بازار سے پانی خریدتے ہیں۔ یہ پانی نہر کے کنارے الیکٹرک پمپ لگا کر زمین سے نکالا جاتا ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایگریکچرل اینٹامولوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشفاق نے بتایا کہ ان فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ نہروں میں شامل ہونے سے نہ صرف اس علاقے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ گردو نواح میں اگائی جانے والی سبزیاں اور پھل بھی اس کے زہریلے اثرات سے محفوظ نہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کے ڈاکٹر زاہد یاسین نے بتایا کہ گندے پانی کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے تقریباً اسی سے ایک سو مریض جنرل ہسپتال روزانہ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال الائیڈ ہسپتال کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد شہر کے تیرہ دیہی ہیلتھ سنٹروں اور ایک سو ستر بنیادی ہیلتھ یونٹوں میں آتی ہے۔
محکمہ ماحولیات کے ایک سروے کے مطابق شہر میں زیر زمین پانی میں کھارا پن کے علاوہ دس فیصد فلورائیڈ اور نو فیصد بد ذائقہ پن موجود ہے۔ ماہر ماحولیات اختر اعوان کا کہنا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ اور ایمشن پلانٹ ہی اس مسئلے کا واحد ہے۔ واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر محبوب الہی نے بتایا کہ چھیاسٹھ کروڑ روپے سے محکمہ نے واٹر سپلائی لائنز کو تبدیل کرنے پروگرام شروع کیا ہے جو اس سال جون تک مکمل ہونا تھا۔ ابھی تک منصوبے کے تحت محمد آباد میں پائپ تبدیل کیے گئے ہیں۔ محبوب الہی کے مطابق منصوبہ آئندہ جون تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ویسٹرن زون میں لگایا گیا ہے جو پندرہ سے بیس فیصد فیکٹریوں کے زہریلے پانی کو فِلٹر کر کے دریائے چناب میں پھینک رہا ہے۔ |
اسی بارے میں درخت کم، دھواں زیادہ، گھٹتا دم20 June, 2007 | پاکستان پھیلتے شہر، سکڑتے باغ، زندگی مشکل16 June, 2007 | پاکستان کراچی:طرز تعمیر اور ماحول کی تباہی29 June, 2007 | پاکستان پاکستان:’سنگین‘ موسمیاتی تبدیلیاں11 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||