پھیلتے شہر، سکڑتے باغ، زندگی مشکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا لگتا ہے کہ ’درخت لگاؤ اور جنت میں گھر بناؤ‘ کا نعرہ تقریباً اسی لاکھ کی آبادی کے شہر لاہور میں اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ متعلقہ حکومتی اداروں کو یا تو درختوں سے دلچسپی نہیں رہی یا لوگوں کو جنت کا لالچ بھی کام نہیں آ رہا۔ آج کل کے دور میں یہ نعرہ کچھ اس طرح سے بن گیا ہے ’درخت کاٹو رہائشی کالونیاں بناؤ، درخت کاٹو سڑک بناؤ، انڈر پاس بناؤ، اوور ہیڈ برِج بناؤ‘۔ محکمۂ ماحولیات کے ایک افسر کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران لاہور میں تقریباً آٹھ ہزار (8000) آور درختوں سے ترقیاتی کاموں کے نام پر محروم ہوگیا ہے۔ خدشہ ہے کہ مزید سینکڑوں درخت مختلف منصوبہ جات مثلاً ٹھوکر نیاز بیگ سے ملتان روڈ تک فلائی اوور، گارڈن ٹاون کا انڈر پاس، کینال روڈ کی دھرم پورہ انڈر پاس سے کنال ویو برج تک ری ماڈلنگ، پر قربان ہو جائیں گے۔ لاہور ڈویلپمینٹ اتھارٹی (LDA) اپنی یا پرائیویٹ ہاؤسنگ کالونی کی تعمیر میں سات فیصد رقبہ پارکوں، گرین بیلٹ اور درختوں کے لیے مختص کرتا ہے۔
اس وقت لاہور میں تقریباً 250 پرائیویٹ اور لاہور ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی 70 رہائشی سکیمیں (کالونیاں) ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان میں سے کتنے خوش قسمت رہائشی ہیں جنہیں پورے سات فیصد رقبے پر پارکوں اور درختوں کی سہولیات میسر ہیں۔ سابق ایڈیشنل سیکرٹری محکمۂ ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ آرکیٹکٹ محمد جاوید کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر کسی بھی ملک کی کل آبادی کے تناسب سے دس فیصد درخت موجود ہونے چاہیے۔ کسی بھی رہائشی کالونی کی پلاننگ کی جائے تو اس کی ممکنہ آبادی کے لحاظ سے دس فیصد درخت لگائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس تیزی سے لاہور کی آبادی بڑھ رہی ہے اس تیزی سے درخت بڑھنے کی بجائے کٹ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت بدقسمتی سے لاہور میں سوائے چار پانچ کو چھوڑ کر کوئی رہائشی کالونی ایسی نہیں جہاں پر یہ مروجہ اصول نافذ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب رہائشی کالونی بنائی جاتی ہے تو کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں دیتا کہ آیا وہاں آبادی کے تناسب سے درخت لگائے جا رہے ہیں یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنے گھروں کے اردگرد درختوں کی بجائے اونچی عمارتیں دیکھتے ہیں۔ آرکیٹکٹ و پینٹر سابق ڈائریکٹر نیشنل کالج آف آرٹس ڈاکٹر اعجاز انور کے مطابق جیسے ہی کسی رہائشی سکیم کا اعلان ہوتا ہے اس میں آنے والے تمام درخت قربان کر دیئے جاتے ہیں۔ کوئی متعلقہ محکمہ اس طرف دھیان نہیں دیتا کہ ان کو بچایا بھی جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سڑک تعمیر کرنی ہو یا انڈر پاس تو درختوں کی شامت آ جاتی ہے، اس عمل میں نہ تو محکمۂ ماحولیات سے رجوع کیا جاتا ہے اور نہ ہی دوسرے قانونی تقاضے پورے کیئے جاتے ہیں۔ ڈ
انہوں نے کہا کہ اگر محکمۂ ماحولیات سے بروقت رجوع کر لیا جائے تو کم از کم یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کتنے درخت بچ سکتے ہیں اور ان کا متبادل کیا ہو سکتا ہے۔ صرف تھوڑی سی منصوبہ بندی درختوں کی ایک بڑی تعداد کو کٹنے سے بچا سکتی ہے۔ محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق سالانہ ایک لاکھ قلمیں (پودے) لاہور میں لگائی جاتی ہیں۔ تاہم ڈاکٹر اعجاز انور کا کہنا ہے کہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کتنے تن آور درخت بن پاتے ہیں۔ لاہور میں کوئی ایسا حکومتی ادارہ نہیں جو کہ درختوں کا ریکارڈ رکھ رہا ہو۔ پنجاب کا تقریباً چار فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جوکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پچیس فیصد ہونا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’موجودہ بسیں، ویگنیں ختم کریں‘23 December, 2006 | پاکستان ماحولیاتی تنظیموں کا الرٹ09 November, 2005 | پاکستان چھپڑ بالا کے درخت کس کام کے؟26 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||