اسلام آباد میں پولیس کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں چند ماہ قبل لال مسجد کی وجہ سے پیدا کشیدگی پر قابو پانے کے لیے طلب کیےگئے پنجاب پولیس کے بارہ سو جوانوں نے پانچ گھنٹے تک احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے اس دوران اپنے ایک افسر کی پٹائی بھی کی جو انہیں منتشر ہونے کے احکام جاری کر رہا تھا۔ حکام نے اس پولیس نفری کے نگران ایس پی اشرف گجر کو عہدے سے معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ پنجاب کنسٹیبلری کے جوان کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایک ساتھی کی موت کی وجہ سے اس غیر وفاقی دارالحکومت میں جی سِکس کے سرکاری فلیٹس میں پڑے ان مشتعل جوانوں نے منگل کی صبح سے ہی آبپارہ کے علاقے میں چوراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس سے دفاتر جانے والے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد میں ڈی آئی جی سیّد مروت علی شاہ نے احتجاج کرنے والے سپاہیوں کے ٹی اے/ ڈّی اے اور چھٹیوں سے متعلق ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے انہیں فوراً واپس اپنے علاقوں کو جانے کا حکم جاری کر دیا۔ ان جوانوں کو دس روز کی چھٹی دی گئی ہے۔ احتجاج کرنے والے پولیس اہلکاروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر، کہ اس سے ان کی نوکری جا سکتی ہے، بتایا کہ انہیں اسلام آباد میں کافی برے حالات میں رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ نہ ان کو بیت الخلا، نہ کھانا اور نہ مناسب طبی سہولیات میسر تھیں۔ ایک جوان نے کہا کہ کھانے میں سے مرے ہوئے چوہے ملتے تھے جبکہ پینے کے پانی میں سے بو آتی تھی۔ ان کا الزام تھا مرنے والے جوان امام بخش کی طبیت گزشتہ چار روز سے خراب تھی لیکن نہ اسے چھٹی دی جا رہی تھی اور نہ طبی امداد دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چھٹی صرف ان لوگوں کو ملتی تھی جو ان کے افسران کی مٹھی گرم کرتے تھے۔ ایک جوان نے بتایا کہ ان کے ساتھ میزبان اسلام آباد پولیس کا رویہ بھی درست نہیں تھا۔ ’میں کوہسار پولیس تھانے پانی کے لیے گیا تو انہوں نے مجھے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ ہم ان کے ساتھ گشت بھی کرتے تھے لیکن وہ ہمارے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔ کیا ہم اچھوت ہیں؟ میں پھر یہاں نہیں آؤں گا‘۔ ایک اور کا کہنا تھا:’اگر اسلام آباد میں آگ بھی لگ جائے تو بھی ہم نہیں آئیں گے‘۔ ایک اور جوان نے کہا کہ انہیں روزانہ سو روپے خرچ کے لیے دینے کا وعدہ ہوا تھا لیکن وہ بھی نہیں ملے۔ ڈی آئی جی سیّد مروت علی شاہ نے مشتعل جوانوں سے خطاب میں مرنے والے پولیس افسر کے لیے بیس لاکھ روپے کی امداد اور اس کے بھائی کے لیے نوکری کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان میں پولیس کی جانب سے احتجاج کا یہ غیرمعمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اضافی پولیس نفری اس سال دو جنوری کو اسلام آباد طلب کی گئی تھی۔ اس کی ضرورت ان دنوں لال مسجد کی صورتحال اور بعد میں چیف جسٹس کے کیس کی وجہ سے محسوس کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو اعلانِ جنگ‘02 June, 2007 | پاکستان ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘27 May, 2007 | پاکستان لال مسجد کشیدگی کا ایک دور21 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا20 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: پولیس اہلکار یرغمال18 May, 2007 | پاکستان لال مسجد :مذاکرات ختم16 May, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||