BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد میں پولیس کا احتجاج

ڈی آئی جی سید مروت علی شاہ نے پنجاب پولیس کے جوانوں کو دس روز کی چھٹی دے دی ہے
اسلام آباد میں چند ماہ قبل لال مسجد کی وجہ سے پیدا کشیدگی پر قابو پانے کے لیے طلب کیےگئے پنجاب پولیس کے بارہ سو جوانوں نے پانچ گھنٹے تک احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے اس دوران اپنے ایک افسر کی پٹائی بھی کی جو انہیں منتشر ہونے کے احکام جاری کر رہا تھا۔ حکام نے اس پولیس نفری کے نگران ایس پی اشرف گجر کو عہدے سے معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

پنجاب کنسٹیبلری کے جوان کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایک ساتھی کی موت کی وجہ سے اس غیر
معمولی احتجاج پر مجبور ہوئے۔

وفاقی دارالحکومت میں جی سِکس کے سرکاری فلیٹس میں پڑے ان مشتعل جوانوں نے منگل کی صبح سے ہی آبپارہ کے علاقے میں چوراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس سے دفاتر جانے والے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جی سِکس کے سرکاری فلیٹس میں پڑے پنجاب پولیس کے مشتعل جوانوں نے آبپارہ کے علاقے میں چوراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا

بعد میں ڈی آئی جی سیّد مروت علی شاہ نے احتجاج کرنے والے سپاہیوں کے ٹی اے/ ڈّی اے اور چھٹیوں سے متعلق ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے انہیں فوراً واپس اپنے علاقوں کو جانے کا حکم جاری کر دیا۔ ان جوانوں کو دس روز کی چھٹی دی گئی ہے۔

احتجاج کرنے والے پولیس اہلکاروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر، کہ اس سے ان کی نوکری جا سکتی ہے، بتایا کہ انہیں اسلام آباد میں کافی برے حالات میں رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ نہ ان کو بیت الخلا، نہ کھانا اور نہ مناسب طبی سہولیات میسر تھیں۔ ایک جوان نے کہا کہ کھانے میں سے مرے ہوئے چوہے ملتے تھے جبکہ پینے کے پانی میں سے بو آتی تھی۔

ان کا الزام تھا مرنے والے جوان امام بخش کی طبیت گزشتہ چار روز سے خراب تھی لیکن نہ اسے چھٹی دی جا رہی تھی اور نہ طبی امداد دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چھٹی صرف ان لوگوں کو ملتی تھی جو ان کے افسران کی مٹھی گرم کرتے تھے۔

ایک جوان نے بتایا کہ ان کے ساتھ میزبان اسلام آباد پولیس کا رویہ بھی درست نہیں تھا۔ ’میں کوہسار پولیس تھانے پانی کے لیے گیا تو انہوں نے مجھے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ ہم ان کے ساتھ گشت بھی کرتے تھے لیکن وہ ہمارے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔ کیا ہم اچھوت ہیں؟ میں پھر یہاں نہیں آؤں گا‘۔ ایک اور کا کہنا تھا:’اگر اسلام آباد میں آگ بھی لگ جائے تو بھی ہم نہیں آئیں گے‘۔

 پاکستان میں پولیس کی جانب سے احتجاج کا یہ غیرمعمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے

ایک اور جوان نے کہا کہ انہیں روزانہ سو روپے خرچ کے لیے دینے کا وعدہ ہوا تھا لیکن وہ بھی نہیں ملے۔

ڈی آئی جی سیّد مروت علی شاہ نے مشتعل جوانوں سے خطاب میں مرنے والے پولیس افسر کے لیے بیس لاکھ روپے کی امداد اور اس کے بھائی کے لیے نوکری کا اعلان بھی کیا۔

پاکستان میں پولیس کی جانب سے احتجاج کا یہ غیرمعمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اضافی پولیس نفری اس سال دو جنوری کو اسلام آباد طلب کی گئی تھی۔ اس کی ضرورت ان دنوں لال مسجد کی صورتحال اور بعد میں چیف جسٹس کے کیس کی وجہ سے محسوس کی گئی تھی۔

پولیسپولیس کی’پکنک‘
اسلام آباد میں بے سر و سامان پنجاب پولیس
لال مسجد (فائل فوٹو) ’اسلامی انقلاب‘
’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘
جامعہ حفصہاورمذاکرات نہیں
لال مسجد:حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم
اسی بارے میں
لال مسجد :مذاکرات ختم
16 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد