BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 June, 2007, 21:51 GMT 02:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمران کے وکیل کے دفتر میں چوری

احمد اویس
احمد اویس نے ابھی حال ہی میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل اور سینئر قانون دان احمد اویس کے دفتر کے تالے توڑ کر اہم دستاویزات کو چرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مقامی پولیس نے احمد کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

احمد اویس چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے فیصل آباد میں خطاب کی تقریب میں شرکت کے بعد اتوار کو واپس آئے تو ان کے دفتر میں کام کرنے والے ساتھی وکیل نے اطلاع دی کہ دفتر کا تالا ٹوٹا ہوا ہے اور تمام دستاویزات بکھرئے پڑے ہیں۔

احمد اویس لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ہیں اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

ان کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کی پامالی کرنے پر آئین کی شق چھ کے تحت غدرداری کا مقدمہ درج کرکے کارروائی ہونی چاہئے۔

 احمد اویس نے اپنے مقدمہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ ان دنوں عمران خان کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی پیروی کررہے ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل بنچ کے روبرو چیف جسٹس آف پاکستان کے حق میں اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کی درخواست میں بطور وکیل پیش ہور ہے ہیں۔

احمد اویس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو اس بات پر شدید حیرت ہے کہ ان کے دفتر سے کوئی بھی قمیتی چیز چوری نہیں کی گئی بلکہ کمپیوٹرز اور فیکس مشین سمیت دیگر کسی قمیتی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا اور تمام چیزیں محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے کمرے میں میز اور الماری کی درازوں کے تالے توڑ کر ان کو کھولا گیا تھا اور اہم کاغذات اور دستاویزات کو چرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

احمد اویس نے اپنے مقدمہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ ان دنوں عمران خان کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی پیروی کررہے ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل بنچ کے روبرو چیف جسٹس آف پاکستان کے حق میں اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کی درخواست میں بطور وکیل پیش ہور ہے ہیں۔

ان کے بقول ان کےدفتر کے تالے توڑنے کے واقعہ میں خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور یہ تمام کارروائی ان کو ہراساں کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ اگر یہ چوری کی واردات ہوتی تو چور قمیتی چیزوں کو چوری ضرور کرتا۔

احمد اویس کا دفتر لاہور ہائیکورٹ سے کچھ فاصلے پر واقع اس عمارت میں ہے جہاں نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل پاکستان نوید رسول مرزا اور سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس میں صدر کے وکیل اور سابق وائس چیئرمین عارف چودھری کے دفاتر بھی ہیں۔

واضح رہے کہ احمد اویس چند ماہ قبل تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور ان کے پاس جماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا عہدہ بھی ہے۔

اسی بارے میں
عمران خان لندن پہنچ گئے
02 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد