BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان پاکستان شیعہ سنی امن معاہدہ

کرم ایجنسی
اس سال اپریل میں کرم ایجنسی میں شیعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے تھے
پاکستان اور افغانستان کے شیعہ اور سنی قبائل کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق فریقین نے علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد کی صورت میں تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے سے حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

معاہدہ پر دستحظ اتوار کو پاکستان کے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں منعقدہونے والے ایک سرکردہ قبائلی جرگہ میں کیے گئے جس میں کرم ایجنسی کے توری (شیعہ) اور افغانستان کے زازی (سنی) قبائل نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگہ میں کسی سرکاری اہلکار نے شرکت نہیں کی۔

توری قبائل کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ علی اکبر نے معاہدے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ فریقین اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کی صورت میں وہ ایک دوسرے کو نشانہ نہیں بنائیں گے بلکہ گفت وشنید سے تمام معاملات طے کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سال چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں شیعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں دونوں جانب سے سینکڑوں کے قریب کے لوگ ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں کچھ میزائل افغانستان کے زازی کے علاقہ سے پاکستان کے سرحدی دیہات پر داغے گئے جس میں جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے تھے۔

 افغانستان کے دو صوبوں پکتیا اور خوست کی سرحدیں پاکستان کے کرم ایجنسی سے ملتی ہیں۔ ماضی میں بھی پارہ چنار کے فرقہ وارانہ واقعات میں افغانستان کے قبائل شامل ہوتے رہے ہیں

علی اکبر کے مطابق فریقین نے کشیدگی کی صورت میں سرحد کے دونوں جانب امن وامان کی فضا برقرار رکھنے، دو طرفہ تجارت کو جاری رکھنے اور گاڑیوں کی آزادانہ آمد و رفت کو بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جرگہ نے چالیس ارکان پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی جس میں دونوں طرف سے قبائلی مالکان اور سرکردہ مشیر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئے جس میں دونوں طرف کے قبائل نے مختلف مسائل پر کھل کر اظہارخیال کیا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دو صوبوں پکتیا اور خوست کی سرحدیں پاکستان کے کرم ایجنسی سے ملتی ہیں۔ ماضی میں بھی پارہ چنار کے فرقہ وارانہ واقعات میں افغانستان کے قبائل شامل ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد