بلوچستان: دھماکہ خیز مواد برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر ڈیرہ اللہ یار میں سیکیورٹی فورسز نے ایک مکان پر چھاپہ مارا ہے جہاں سے ایک سو کلو سے زیادہ دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ دو دنوں میں کی گئی گرفتاریوں کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کارروائی میں خفیہ ایجنسی کے اہلکار بھی شریک تھے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اللہ یار میں سیکیورٹی فورسز نے ایک مکان پر چھاپہ لگا کر ایک سو ایک کلو دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹرز کے تار برآمد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز کی جانے والی گرفتاریوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔ یاد رہے گزشتہ دو روز میں سیکیورٹی فورسز نے لگ بھگ بارہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ منگل کے روز سیکیورٹی فورسز اور بگٹی قبیلے کے لوگوں کے مابین جھڑپ ہوئی تھی اور گزشتہ روز نواب اکبر بگٹی کے پوتے کے مکان پر چھاپہ مارا گیا تھا جہاں گرفتاریوں کے بارے میں متضاد اطلاعات ملی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ گیارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جبکہ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے بتایا تھا کہ صرف دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گزشتہ چار روز سے کوئٹہ کے قریب دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں بیشتر کی ذمہ داری خود کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں تیرہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کے قریب نامعلوم افراد نے ریلوے پل کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس سے ریل گاڑیوں کی آمدو رفت معطل ہو گئی تھی لیکن بعد دوپہر سروس بحال کر دی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں کوئٹہ: منقطع ریل رابطہ بحال31 May, 2007 | پاکستان کراچی دھماکوں میں دو کو سزائے موت31 May, 2007 | پاکستان ڈیرہ اللہ یار: فائرنگ سے چار ہلاک30 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، بگٹی کے گھر چھاپہ30 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||