ڈیرہ اللہ یار: فائرنگ سے چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر ڈیرہ اللہ یار کے قریب منگل کے روز فائرنگ سے دو راہگیروں سمیت چار افراد ہلاک اور چار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے دعوٰی کیا ہے کہ فرنٹیئر کور اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ان کے مخالف بگٹیوں سے مل کر ان کے محافظوں پر حملہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس حکام سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ ڈیرہ اللہ یار سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ بگٹی قبیلے کے لوگ اپنی زمینوں کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں فرنٹیئر کور اور دیگر اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس سے دو راہگیروں سمیت چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہندو تاجر بھی شامل ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ فائرنگ سے سیکیورٹی فوسرز کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جمہوری وطن پارٹی کے اپنے گروپ کے سربراہ اور نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے ایک ہنگامی اخباری کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ ایف سی اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ان کے مخالف بگٹی قبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے محافظوں پر حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کے اہلکار ان کے ایک محافظ پیرو بگٹی کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے ساتھ لے گئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ آیا ان کے محافظوں میں کوئی فراری یا حکومت کو مطلوب افراد تھے تو انہوں نے کہا کہ فراری تو سیکیورٹی فورسز کے ہمراہ تھے ۔ مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور مقامی تاجروں نے دکانیں بند کر دی ہیں۔ اس بارے میں علاقے کے پولیس افسران اور ناظم سے رابطے کے بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ |
اسی بارے میں پٹڑی پر دھماکہ، پانچ دیسی بم ناکارہ28 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: سکول ایف سی کے حوالے 24 May, 2007 | پاکستان پاکستان پر ایمنسٹی کی سالانہ رپورٹ23 May, 2007 | پاکستان قلات جرگے کا سات نکاتی اعلامیہ22 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||