’حماد کا قتل ٹارگٹ کلنگ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کی بیوی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ شبانہ حماد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات دو لوگ سیکٹر جی ٹین ٹو میں واقع ان کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ حماد کی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا گھر میں داخل ہونے والے لوگ ڈکیتی کی غرض سے نہیں بلکہ حماد کو ڈھونڈ رہے تھے اور انہوں نے بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی اور جب دروازہ کھولا گیا تو وہ حماد رضا کو ہلاک کر کے ایک دو منٹ میں غائب ہو گئے۔ حماد رضا ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور وہ کافی عرصہ تک صوبہ میں تعینات رہے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس بننے کے بعد حماد رضا کو ڈیپیوٹیشن پر سپریم کورٹ میں بطور ایڈیشنل رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ حماد رضا سپریم کورٹ کے ان اہلکاروں میں شامل تھے جن سے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد حکومتی اداروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔ شبانہ حماد نے کہا کہ ان کی کسی شخص سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی انہیں پہلے کبھی کسی نے کوئی دھمکی دی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس اور سپریم کورٹ کے کئی جج حماد رضا کے گھر گئے۔ اطلاعات کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ مقدمے کے ریکارڈ سمیت منگل کے روز ان کے پاس حاضر ہوں۔ شبانہ حماد جو برطانوی شہری نے حکومت برطانیہ کو اپنے شوہر کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے ۔اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشن کے ایک اہلکار حماد رضا کی موت کے حالات جاننے کے لیے ان کے گھر گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ قتل14 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ بینچ کی سماعت منگل سے14 May, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان سہراب گوٹھ سے ہنگاموں کا آغاز13 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||