ڈی آئی خان میں کرفیو کا خاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں صورتحال کے معمول پر آنے کے بعد چھ روز سے جاری کرفیو کو مکمل طور پراٹھا لیا گیا ہے۔ اس سے قبل صرف دن کا کرفیو اٹھایا گیا تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے ترجمان ملک محمد رمضان نے بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو صوبائی حکومت کے حکم پر اٹھایا جارہا ہے تاہم شہر میں موٹرسائیکل چلانے پر پابندی برقرار رہے گی کیونکہ بقول ان کےڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے پچانوے فیصد فرقہ وارانہ فسادات میں موٹر سائیکل کا استعمال ہوا ہے۔ اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہر میں حالات روز برو ز معمول پر آ رہے ہیں اس لیے صبح پانچ بجے سے رات نو بجے تک کے لیے کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فرقہ وارانہ قتل اور فسادات میں ملوث کالعدم شدت پسند تنظیموں کے اسی سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اوران میں بعض وہ افراد بھی شامل ہیں جو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور دورانِ تفتیش انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے‘۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ مزید تفتیش جاری ہے اور اگر کسی کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے تو ان کو رہا کر دیا جائے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ناظم حاجی عبدالرؤف نے بھی کرفیو کے نفاذ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے شہری حقوق سلب ہو رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا’ضلعی حکومت نے تو پہلے روز ہی کرفیو کے نفاذ کی مخالفت کی تھی کیونکہ حالات اتنے خراب نہیں تھے کہ کرفیو نافذ کیا جاتا‘۔ ان کا کہنا تھا’میں نے پولیس انتظامیہ کو بتا دیا تھا کہ کرفیو کا نفاذ آخری حل ہے جبکہ ہمارے پاس مسئلے پر قابو پانے کے لیے دیگر راستے بھی موجود ہیں‘۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ ورانہ فسادات کے مستقل حل ڈھونڈنے کےلیے وکلاء، انجمن تاجران اور مقامی سیاستدانوں پر مشتمل ایک بیس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی نے بھی کرفیو کو مکمل طور پر اٹھائے جانے کی کوششیں کیں۔ کمیٹی کے رکن اور ڈیرہ اسماعیل خان بار کونسل کےصدر حشمت خان سدوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے تھے جس کے نتیجے میں کرفیو کا نفاذ کیا جاتا۔ حشمت خان کے مطابق’حالیہ فرقہ وارانہ فسادات ڈیرہ اسماعیل شہر سے بارہ کلومیٹر دور رونما ہوئے تھے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہاں ہر پندرہ دن کے بعد فرقہ ورانہ تشدد کا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے لہذا کرفیو لگانے کی بجائے اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ کرفیو کی وجہ سے طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، شہر میں مہنگائی بڑھ گئی ہے اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے‘۔ واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہفتے قبل فرقہ ورانہ تشدد کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور ایک پیش امام زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس نے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان سے متصل صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع گزشتہ ایک سال سے تشدد کی زد میں ہیں اور اس وقت ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں رات کے وقت عملاً کرفیو نافذ ہے جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتے۔ جنوبی وزیرستان سے متصل ضلع ٹانک میں ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل کے اغواء کے بعد پولیس اور مقامی طالبان کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد کرفیو کا نفاذ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقے پارہ چنار میں شیعہ سنی فسادات میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق تراسی افراد کی ہلاکت کے بعد لگایا گیا کرفیو اب بھی بر قرار ہے جس سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں کرفیو جاری، پچاس افراد گرفتار28 April, 2007 | پاکستان ڈی آئی خان میں کرفیو نافذ 27 April, 2007 | پاکستان ڈی آئی خان: پیش امام پر حملہ26 April, 2007 | پاکستان فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسمعیل خان: تین افراد ہلاک25 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||