ڈی آئی خان میں کرفیو نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات کے بعد حکام نے جمعہ کو کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو میں جمعہ کی دوپہر ایک بجے سے چار بجے تک نرمی کی گئی ہے تاکہ لوگ جمعہ کی نمازادا کرنے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی اشیاء خرید سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں گزشتہ چند دنوں سے امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور تین دنوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہو چکے ہیں۔ ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ کرفیو غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا البتہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ زیادہ عرصے تک کرفیو نافد نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کرفیو کے دوران امتحانات میں شرکت کرنے والے طلباء و طالبات اور ڈاکٹروں کو خصوصی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اورگزشتہ روز کے رونما ہونے والے واقعات کے سلسلے میں اب تک کالعدم تنظیموں کے درجن بھر مشتبہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے صحافی سعیداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد شہر مکمل طور پر بند ہے اور سکولوں اور دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ واضح رہے ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ بدھ کےروز نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کے ایک دن بعد جمعرات کو دو مختلف واقعات میں ایک اہل تشیع کو ہلاک اور اہل سنت سے تعلق رکھنے والے پیش امام کو زخمی کر دیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشہ چند ماہ کے دوران فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک فرقہ ورانہ فسادات پر قابو پانےمیں ناکام رہی ہے۔ | اسی بارے میں فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان ڈی آئی خان: پیش امام پر حملہ26 April, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسمعیل خان: تین افراد ہلاک25 April, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تناؤ10 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||