ہیلی کاپٹر کی پرواز، فضا کشیدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیر کو ایک فوجی ہیلی کاپٹر کی مدرسہ حفصہ پر نیچی پرواز نے حکومت اور لال مسجد کے درمیان کشیدگی کو تازہ کر دیا۔ اسلام آباد کے مصروف مرکزی حصے ایف سکس میں واقع لال مسجد پیر کی صبح ذرائع ابلاغ کی توجہ کا ایک مرتبہ پھر مرکز بنا جب عینی شاہدین کے مطابق ایک فوجی ہیلی کاپٹر نے مسجد اور اس سے متصل مدرسے پر پانچ منٹ تک نیچی پرواز کی۔ اس پراوز سے مسجد اور مدرسے میں موجود طلبہ میں تشویش پھیل گئی۔ کئی افراد اسے حکومت کی جانب سے کسی کارروائی کا آغاز سمجھنے لگے۔ بڑی تعداد میں طلبہ ڈنڈے اٹھا کر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہوگئے۔ ادھر پولیس نے بھی مدرسے کو جانے والی سڑک طلبہ کی جانب سے کسی جلوس کے خدشے کے پیش نظر مختصر مدت کے لیے بند کر دی۔ تاہم ہیلی کاپٹر کے جانے کے بعد مقامی لوگوں کی تشویش میں کمی آئی، سڑک کھول دی گئی اور حالات جلد معمول پر آگئے۔ لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دھمکی دی کہ حکومت کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کی صورت میں مذاکرات کو جاری رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار دو میں سے ایک فوجی مدرسے کی بیس منٹ تک عکس بندی کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران اس نے اتنی نیچی پرواز کی کہ مدرسے میں موجود طالبات کی سانس بند ہونے لگی۔ انہوں نے ہیلی کاپٹر کی جانب سے کوئی گیس پھینکنے کا الزام بھی لگایا۔ اس واقعہ پر ابھی کوئی باقاعدہ سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے ٹیلیفون پر عبدالرشید غازی سے بات کی۔ نائب مہتمم کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت نے اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کر کے دوبارہ رابطے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس پرواز کے مقاصد کے بارے میں عبدالرشید کا کہنا تھا کہ یہ متحدہ قومی موومنٹ کے اتوار کے کراچی میں جلسہ عام کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں کارٹونوں کی اشاعت کے معاملے پر تو الطاف حسین خاموش رہے لیکن اس معاملے پر بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ مدرسہ حفصہ ہے مسجد حفصہ نہیں۔ نائب مہتمم نے حکومت سے ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ویڈیو فلم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ لال مسجد میں پیدا ہونے والی آج کی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے ساتھ ’مثبت‘ مذاکرات کے باوجود معاملہ ابھی پوری طرح سے حل نہیں ہوا ہے۔ کئی لوگوں نے یہ قیاس کرنا شروع کر دیا ہے کہ خفیہ ادارے اس ویڈیو کے ذریعے مدرسے کے اندر کی صورتحال جاننا چاہتے تھے تاکہ سکیورٹی فورسز موثر کارروائی کر سکیں۔ | اسی بارے میں لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||