BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مفاہمت اسی فیصد، ویب سائٹ بحال

مسجد کے باہر سینکڑوں سی ڈیز کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا
حکومت نے لال مسجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد مسجد کی ویب سائٹ پر لگائی گئی پابندی اٹھا لی ہے جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں مسمار شدہ مساجد کو بھی دوبارہ تعمیر کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

لال مسجد کی انتظامیہ سے یہ مذاکرات حکمران جماعت کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت نے کیے۔

مذاکرات کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اسی فیصد تک پیش رفت ہوچکی ہے اور مسمار ہونے والی مساجد کی ازسرنو تعمیر کے لیے علماء اور سرکاری اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی نےطریقہ کار وضع کرنا
شروع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بعض علماء اور کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اہلکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی مسمار کی جانے والی سات مساجد کے مقامات کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد فیصلہ کیا جائےگا کہ ان مساجد کو اپنی سابقہ جگہوں پر یا پھر کسی متبادل مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے بھی کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔

ان کے بقول’ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے بینرز ہٹا دیئے ہیں۔ اسلحہ اور دوسرے علاقوں سے آئی ہوئی خواتین واپس چلی گئی ہیں۔‘

چودھری شجاعت نے مزید بتایا کہ لائبریری پر طالبات کا قبضہ، شریعت کورٹ کا قیام اور دیگر معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔

لال مسجدکی ویب سائٹ
اب حکومت پاکستان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس ویب سائٹ کو مستقل طور پر بند کر سکے، حکومت اگر کرنا بھی چاہے تو وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان میں رہنے والوں کے لیے یہ ویب سائٹ بند کر سکتی ہے لیکن ہمارے پاس مدرسے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایسے ماہر ہیں جو آسانی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے
غازی عبدالرشید

دوسری طرف جامعہ حفصہ کے اہلکاروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منگل کی رات کو حکمران مسلم لیگ کے سربراہ اور مدرسے کے سربراہان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ان اہلکاروں کے مطابق باقی معاملات پر بات چیت اس صورت میں ہوگی جب حکومت ان مساجد کو دوبارہ تعمیر کرے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں حکومت نے بیس فروری کو بعض مساجد کو غیر قانونی تعمیرات کی بناء پر منہدم کردیا تھا اور بعض دیگر مساجد اور مدارس کو نوٹس جاری کیے تھے جس پر احتجاج کرتے ہوئےسیکٹر جی سکس میں لال مسجد سے ملحقہ بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی برقعہ پوش طالبات نے قبضہ کرلیا تھا۔

اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے عالم مولانا عبدالعزیز نے گزشتہ نمازِ جمعہ کے موقع پر لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

اسلام آباد میں لال مسجد سے متصل دینی مدرسہ جامعہ حفصہ کی نقاب پوش طالبات نے دو ہفتے قبل ایک مکان پر چھاپہ مار کرتین خواتین کو یرغمال بنالیا اور بعد میں ان سے زبردستی ’توبہ‘ کرانے پر رہاکر دیا تھا۔

دینی مدرسے کے طلباء اور طالبات نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ وہ جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔

لال مسجد سے طالبان کی حمایت میں جلوس بھی نکالےجاتے رہے ہیں (فائل فوٹو)

مساجد کو مسمار کرنے کے بعد حکومت اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور مدرسے کی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے دور کے بعد کمی آئی ہے۔

لال مسجد کی ویب سائٹ کو گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے فرقہ واریت پھیلانے اور امن و امان کو خراب کرنے کے الزام میں بند کر دیا گیا تھا۔

لال مسجد کے نائب مہتمم اور ترجمان غازی عبدالرشید نے بی بی سی کو
بتایا: ’اب حکومت پاکستان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس ویب سائٹ کو مستقل طور پر بند کر سکیں، حکومت اگر کرنا چاہے تو وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان میں رہنے والوں کے لیے یہ ویب سائٹ بند کر سکتی ہے لیکن ہمارے پاس مدرسے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایسے ماہر ہیں جو آسانی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے‘۔

غازی عبد الرشید کا کہنا تھا کہ صرف بدھ کو ایک ہزار لوگ لال مسجد کی ویب سائٹ دیکھنے آئے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے فرقہ واریت کو فروغ دیا جا رہا تھا۔

غازی عبدالرشید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف تو آزادی اظہار کے دعوے کرتی ہے اور دوسری جانب ان کی ویب سائٹ کو روکا جا رہا ہے۔

لال مسجد کی ویب سائٹ پر مختلف بین الاقوامی اخبارات میں جہاد اور اسلام کے حوالے سے چھپنے والے مضامین کے لنک بھی دیئے گئے ہیں۔

ویب سائٹ پر مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے مطالبات بھی درج کیے گئے ہیں اور عام لوگوں سے رائے بھی مانگی گئی ہے کہ اگر اُنہیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلباء اور طالبات کی جانب سے شروع کی جانے والی اس تحریک پر کوئی اعتراضات ہیں تو وہ ای میل کے ذریعے مسجد انتظامیہ سے اپنے اعتراضات پر وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔

گولڈن ٹمپل اسلام آباد
لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر: وسعت اللہ
لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
لال مسجدتصویروں میں
لال مسجد سے اسلام شریعت کا اعلان
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
اسی بارے میں
خودکش حملوں کی دھمکی
06 April, 2007 | پاکستان
لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد