BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذاکرت میں اسی فیصد پیشرفت‘

چودھری شجاعت حسین
’لائبریری پر طالبات کا قبضہ، شریعت کورٹ کا قیام اور دیگر معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے‘
حکمران مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اسی فیصد تک پیشرفت ہوچکی ہے اور مسمار ہونے والی مساجد کی از سرنو تعمیر کے لیے علماء اور سرکاری اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی نےطریقہ کار وضع کرنا شروع کر دیا ہے۔

بدھ کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد دونوں طرف سے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بعض علماء اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اہلکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی مسمار کی جانے والی سات مساجد کے مقامات کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد فیصلہ کیا جائےگا کہ ان مساجد کو اپنی سابقہ جگہوں پر یا پھر کسی متبادل مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے بھی کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول’ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے بینرز ہٹا دیے ہیں۔ اسلحہ اور دوسرے علاقوں سے آئی ہوئی خواتین واپس چلی گئی ہیں‘۔

چودھری شجاعت نے مزید بتایا کہ لائبریری پر طالبات کا قبضہ، شریعت کورٹ کا قیام اور دیگر معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔

دوسری طرف جامعہ حفصہ کے اہلکاروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منگل کی رات کو حکمران مسلم لیگ کے سربراہ اور مدرسہ کے سربراہان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ ان اہلکاروں کے مطابق باقی معاملات پر بات چیت اس صورت میں ہوگی جب حکومت ان مساجد کو دوبارہ تعمیر کرے گی۔

News image
 دینی مدرسے کے طلباء اور طالبات نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ وہ ’عریانی اور فحاشی‘ پھیلانے کا سبب بننے والی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں

واضح رہے کہ اسلام آباد میں حکومت نے بیس فروری کو بعض مساجد کو غیر قانونی تعمیرات کی بنا پر منہدم کردیا تھا اور بعض دیگر مساجد اور مدارس کو نوٹس جاری کیے تھے جس پر احتجاج کرتے ہوئےسیکٹر جی سکس میں لال مسجد سے ملحقہ بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی برقعہ پوش طالبات نے قبضہ کرلیا تھا۔

اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے عالم مولانا عبدالعزیز نے گزشتہ نمازِ جمعہ کے موقع پر لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد میں لال مسجد سے متصل دینی مدرسہ جامعہ حفصہ کی نقاب پوش طالبات نے دو ہفتے قبل ایک گھر پر چھاپہ مار کرتین خواتین کو یرغمال بنالیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر ’توبہ‘ کرنے پر انہیں رہا کر دیا تھا۔

دینی مدرسے کے طلباء اور طالبات نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ وہ ’جنسی مواد پر مبنی‘ سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔ مساجد کو مسمار کرنے کے بعد حکومت اور جامعہ حفصہ کے انتظامیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور مدرسے کی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے دور کے بعد کمی آئی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ فریقین تنازعے کو مذاکرت کے ذریعے حل کرنے سے متعلق کسی پیشرفت کا اشارہ دے رہے ہیں۔

لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
لال مسجدتصویروں میں
لال مسجد سے اسلام شریعت کا اعلان
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
اسی بارے میں
لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن
06 April, 2007 | پاکستان
خودکش حملوں کی دھمکی
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد