’مذاکرت میں اسی فیصد پیشرفت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اسی فیصد تک پیشرفت ہوچکی ہے اور مسمار ہونے والی مساجد کی از سرنو تعمیر کے لیے علماء اور سرکاری اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی نےطریقہ کار وضع کرنا شروع کر دیا ہے۔ بدھ کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد دونوں طرف سے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بعض علماء اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اہلکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی مسمار کی جانے والی سات مساجد کے مقامات کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد فیصلہ کیا جائےگا کہ ان مساجد کو اپنی سابقہ جگہوں پر یا پھر کسی متبادل مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے بھی کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول’ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے بینرز ہٹا دیے ہیں۔ اسلحہ اور دوسرے علاقوں سے آئی ہوئی خواتین واپس چلی گئی ہیں‘۔ چودھری شجاعت نے مزید بتایا کہ لائبریری پر طالبات کا قبضہ، شریعت کورٹ کا قیام اور دیگر معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ دوسری طرف جامعہ حفصہ کے اہلکاروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منگل کی رات کو حکمران مسلم لیگ کے سربراہ اور مدرسہ کے سربراہان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ ان اہلکاروں کے مطابق باقی معاملات پر بات چیت اس صورت میں ہوگی جب حکومت ان مساجد کو دوبارہ تعمیر کرے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں حکومت نے بیس فروری کو بعض مساجد کو غیر قانونی تعمیرات کی بنا پر منہدم کردیا تھا اور بعض دیگر مساجد اور مدارس کو نوٹس جاری کیے تھے جس پر احتجاج کرتے ہوئےسیکٹر جی سکس میں لال مسجد سے ملحقہ بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی برقعہ پوش طالبات نے قبضہ کرلیا تھا۔ اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے عالم مولانا عبدالعزیز نے گزشتہ نمازِ جمعہ کے موقع پر لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد میں لال مسجد سے متصل دینی مدرسہ جامعہ حفصہ کی نقاب پوش طالبات نے دو ہفتے قبل ایک گھر پر چھاپہ مار کرتین خواتین کو یرغمال بنالیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر ’توبہ‘ کرنے پر انہیں رہا کر دیا تھا۔ دینی مدرسے کے طلباء اور طالبات نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ وہ ’جنسی مواد پر مبنی‘ سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔ مساجد کو مسمار کرنے کے بعد حکومت اور جامعہ حفصہ کے انتظامیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور مدرسے کی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے دور کے بعد کمی آئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ فریقین تنازعے کو مذاکرت کے ذریعے حل کرنے سے متعلق کسی پیشرفت کا اشارہ دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان جامعہ حفصہ مدارس بورڈ سے خارج09 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||