BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سجاوٹی بت، رخ بدلنے کا حکم

سجاوٹی بت یا فحاشی
پشاور کے انتہائی مصروف یونیورسٹی روڈ پر عورتوں کے سلے و ان سلے کپڑوں کی سینکڑوں دوکانیں واقع ہیں
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں ایک مرتبہ پھر اپنی دوکانوں سے خواتین کے سجاوٹی بت ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف بتوں کا رخ باہر کی بجائے دوکان کے اندر کرنے کے لیے کہا ہے۔ دوسری جانب دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے ایسے کسی حکم سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داود زئی نے بی بی سی سے مختصر سے بات چیت میں ایسے کسی حکم سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں معلومات اکھٹی کرکے دوبارہ رابطہ کریں گے۔ دوسری جانب پشاور پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی عبدالمجید مروت نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ ہدایت بموں کی دھمکیوں یا کسی اور وجہ سے نہیں دی ہے بلکہ تاجروں کوصرف ان بتوں کا منہ دوکان کے اندر کی جانب موڑنے کے لیئے کہا گیا ہے۔،

پشاور میں کپڑے کے تاجروں کی دوکانوں کے باہر سجے عورتوں کے بت گزشتہ ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ متنازعہ بنے ہیں۔ اس سے قبل بھی صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ان بتوں کو ہٹانے کی کوشش ہوئی تھی تاہم تاجروں کی مزاحمت کے بعد اسے روک دیا گیا تھا۔

پشاور میں کپڑے کے تاجروں کی دوکانوں کے باہر سجے عورتوں کے بت گزشتہ ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ متنازعہ بنے ہیں۔

پشاور کے انتہائی مصروف یونیورسٹی روڈ پر عورتوں کے سلے اوران سلے کپڑوں کی سینکڑوں دوکانیں واقع ہیں۔ ان کے باہر شیشوں میں ان دوکانداروں نے پلاسٹک کے بنے عورتوں کے بت بہترین و رنگا رنگ کپڑوں سے سجا کر رکھے ہیں۔ ان کا مقصد خاتون خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔

پشاور میں کپڑے فروخت کرنے والوں نے یہ طریقہ بظاہرافغانستان سے آئے تاجروں سے سیکھا ہے۔ پہلے پہل اس روڈ پر افغان عروسی لباس کے تاجروں نے یہ بت متعارف کروائے تھے۔

یونیورسٹی روڈ کے ان تاجروں کی تنظیم کے صدر امجد علی قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں چند روز قبل علاقے کے پولیس افسر نے ان بتوں کے ہٹانے کی ہدایت دی تھی تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

امجد علی قادری کو شک تھا کہ اس حکم کی وجہ حالیہ دنوں میں موسیقی کی دوکانوں اور سکولوں کو نامعلوم عناصر کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی خواہش زیادہ ہوسکتی ہے۔

بت یا فحاشی
سجاوٹی بتوں کا مقصد خاتون خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے

امجد علی قادری کا کہنا تھا کہ انہوں نے بعض دینی ماہرین سے اس بارے میں رائے لی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان بتوں کا استعمال غیراسلامی نہیں ہے اور وہ ان دوکانوں میں نماز تک پڑھ سکتے ہیں۔

ایک دوکاندارگلفام کا کہنا تھا کہ ان بتوں کو ہٹانے سے ان کے کاروبار پر برااثر پڑا ہے۔ ’ہماری دوکانیں اجڑی اجڑی سے لگنے لگی ہیں۔ گاہک انہی بتوں پر سجے کپڑوں کو دیکھ کر اندر آتے ہیں کیونکہ ان سڈول جسم والے بتوں پر یہ کپڑے بہت اچھے دکھائی دیتے ہیں‘۔

ان دوکانوں میں خریداری میں مصروف ایک شخص عدیل خان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے اقدامات سے ملک کا بیرونی دنیا میں شبیہ مزید خراب ہوتی ہے‘۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یہ بت فحاشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ بے جان بت فحاشی کے زمرے میں کہاں آتے ہیں۔اگر فحاشی بند کرنی ہے تو اس کے لیے دیگر مقامات پر حکومت کو توجہ دینا ہوگی۔
دوکاندارگلفام

دوکاندار گلفام کا کہنا تھا کہ ’یہ بے جان بت فحاشی کے زمرے میں کہاں آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر فحاشی بند کرنی ہے تو اس کے لیے دیگر مقامات پر حکومت کو توجہ دینا ہوگی‘۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال نے پہلے ہی ان کے کاروبار کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے جبکہ ان تازہ پابندیوں سے انہیں مزید معاشی بدحالی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ فی الحال کئی دوکانداروں نے بتوں کو شوکیسوں کے فرنٹ سے ہٹا کر اندر رکھ دیا ہے۔ تاہم اکثر دوکانیں اب بھی ایسی ہیں جہاں یہ ویسے ہی سجے سجائے پڑے ہیں۔

موسیقی پر حملہ
طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟
’گلشن‘ پر زمین تنگ
مینگورہ میں فنکاروں کے معاشی مسائل میں اضافہ
عورتوں کی تصاویر
’عورت کی تصاویر والےاشتہار ہٹائیں‘
ایک اور سینما مسمار
پشاور میں ستّر برس پرانا سینما ہال مسمار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد