ڈی آئی خان، تشدد میں دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسمٰعیل خان میں تشدد کے تین الگ الگ واقعات میں مسجد کے مؤذن اور مقامی کالج کے پروفیسر کو قتل کردیا گیا ہے جبکہ ایک تاجر شدید زخمی ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد مقامی انتظامیہ نے شہر میں چوبیس گھنٹوں کےلیے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کے مطابق پہلا واقعہ منگل کی صبح آٹھ بجے اس وقت پیش آیا جب قرطبہ کالج کے پروفیسر نیاز احمد کالج جارہے تھے کہ اسلامیہ کالج کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ مرحوم ریٹائرڈ ٹیچر تھے اور بنوں بورڈ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ تشدد کا دوسرا واقعہ شہر میں کنزیلا والا دروازے کے قریب پیشں آیا جب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے تحصیل رہنما حماد الفاروقی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ان کے ساتھ موجود بڑی مسجد مولوی احمد کے موذن حاجی محمد فاروق موقع پر ہلاک ہوگئے تاہم جی یو آئی کے رہنما حملے میں محفوظ رہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چائے کے ایک تاجر حافظ اسحاق پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے انہیں شدید زخمی کردیا ہے۔ ان واقعات کے بعد شہر میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ مقامی صحافی سعید اللہ خان نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دروان شہر میں فرقہ وارانہ تشدد میں اب تک سات کے قریب افراد مارے جاچکے ہیں جن میں کالعدم تنظیموں کے کارکن بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تناؤ10 March, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان: شیعہ تاجر ہلاک09 March, 2007 | پاکستان کالعدم تنظیم کا کارکن ہلاک08 March, 2007 | پاکستان ڈی آئی خان سے چار مشتبہ افراد گرفتار01 March, 2007 | پاکستان ڈیرہ آئی خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||