سوئی: دھماکے میں ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے مرکزی بازار میں بدھ کو ایک دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین بچیوں اور تین وڈیروں سمیت سولہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا تھا کے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم بعد میں ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص ہلاک جبکہ سولہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سوئی سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے اس وقت کیا گیا جب ڈیرہ بگٹی کے وڈیروں کی گاڑیاں وہاں سے گزر رہی تھیں۔ ان وڈیروں میں محمد بخش موہندرانی، وڈیرہ الہی بخش موہندرانی اور وڈیر فضل شمبھانی شامل ہیں۔ ان وڈیروں نے ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی کے دوران اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا کہ دھماکہ بگٹی کالونی کے مرکزی بازار میں ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ قبائلی دشمنی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس دھماکے کے بعد بازار بند ہو گیا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دھماکے کے بعد بازار خالی ہو گیا اور علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔ دریں اثنا اپنے آپ کو مسلحہ بگٹی قبائلیوں کا ترجمان ظاہر کرنے والے وڈیرہ عالم خان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے میں ان وڈیروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وڈیرہ عالم خان نے بتایا کہ یہ حملہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ہے اور دھماکہ خیز مواد بازار میں دکانوں کے سامنے ایک کچرے کے ڈبے میں رکھا گیا تھا۔ وڈیرہ عالم خان نے کہا کہ اس طرح کے مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے اہم کمانڈر بنگان نے نواب اکبر بگٹی کوچھوڑ کر حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جسے تین ماہ پہلے دسمبر میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ کمانڈر سعید پر دو مرتبہ حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں۔
گزشتہ سال انتیس جون کو بنگان بگٹی اور سعید بگٹی نے اپنے بائیس ساتھیوں کے ہمراہ اسلحہ ڈال کر حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد ڈیرہ بگٹی میں بڑی فوجی کارروائیوں کی اطلاعات پہنچی تھیں۔ سوئی میں دو ہزار چار میں لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور مسلح بگٹی قبائلیوں کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں جس کے بعد مارچ دو ہزار پانچ میں ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور اور بگٹی قبائلیوں کے مابین جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق اسی سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دو ہزار پانچ دسمبر میں کوہلو اور پھر ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کر دی گئی تھی اور اگست دو ہزار چھ میں بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کر یا گیا تھا۔ ڈیرہ بگٹی میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں ور اس وقت ملک میں استعمال ہونے والی گیس کا بڑا حصہ سوئی سے نکلنے والی گیس پورا کرتی ہے۔ سوئی میں انیس سو باون میں گیس دریافت ہوئی تھی۔ | اسی بارے میں منگولی میں دھماکہ، پٹری کو نقصان26 February, 2007 | پاکستان بلوچستان پر سیمینار میں گلے شکوے27 February, 2007 | پاکستان چھاؤنی میں چوری پرحکومتی وضاحت02 March, 2007 | پاکستان حب میں دھماکہ، کوئٹہ میں گرفتاریاں03 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||