BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 February, 2007, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منگولی میں دھماکہ، پٹری کو نقصان

پٹڑی(فائل فوٹو)
دھماکے سے دو فٹ پٹری کا ٹکڑا تباہ ہوگیا
صوبہ بلوچستان میں ڈیرہ اللہ یار اور ڈیرہ مراد جمالی کے درمیان منگولی کے مقام پر ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے جبکہ مستونگ میں انتظامی دفاتر کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دھماکے کے بعد کوئٹہ سے راولپنڈی اور کراچی جانے والی ریل گاڑیوں کو ڈیرہ مراد جمالی میں روک دیا گیا ہے۔ منگولی میں موقع پر موجود مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ دھماکے سے پٹری کا تین فٹ حصہ تباہ ہوگیا ہے۔

بلوچستان کا یہ علاقہ ریلوے کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر سکھر ڈویژن میں شامل ہے لیکن سکھر میں ریلوے حکام نے اس دھماکے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ روز کوئٹہ کے قریب سریاب سپیزنڈ سیکشن پر پٹری کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

علاوہ ازیں پیر کو رات نو بجے مستونگ میں ضلعی انتظامیہ کے دفاتر کی دیوار کے باہر ایک دھماکہ ہوا ہے جس سے دیوار کو نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

امن و امان کی صورتِ حال پر اجلاس
پیر کی صبح بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ امان اللہ یاسین زئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں کچہری اور دیگر حساس مقامات پر حفاطتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضلعی عدالتوں کے احاطے کی دیوار کو اونچا کیا جائے اور وہاں سکینر اور خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں۔

پیر کی صبح بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ امان اللہ یاسین زئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں کچہری اور دیگر حساس مقامات پر حفاطتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضلعی عدالتوں کے احاطے کی دیوار کو اونچا کیا جائے اور وہاں سکینر اور خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں۔

وکلا کے نمائندوں نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ خود حکومت سے اس بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ انھوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ حکومت سے بات کریں گے۔

وکلا نے دھماکے کے بعد سے تاحال عدالتوں میں کام شروع نہیں کیا ہے۔ سترہ فروری کو کوئٹہ میں سینیئر سول جج کی عدالت میں دھماکے سے جج اور آٹھ وکیلوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے۔

اتوار کو بھی کوئٹہ کے قریب ریل کی پٹری پر دھماکہ ہوا ہے جس سے پٹری کو نقصان پہنچا تھا۔ دھماکے سے دو فٹ پٹری کا ٹکڑا تباہ ہوگیا تھا جس کی مرمت کر دی گئی۔

سنیچر کو رات کے وقت نامعلوم افراد نے راکٹ داغا تھا جو عسکری پارک کے قریب گرڈ سٹیشن میں ایک ٹرانسفارمر پر گرا تھا جس سے آگ بھڑک اٹھی تھی اور چھاؤنی سمیت کئی علاقوں کو بجلی کی ترسیل معطل ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں
کوئٹہ: دو راکٹ حملے
18 December, 2006 | پاکستان
کوئٹہ دھماکہ شہ سرخیوں میں
18 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد