مقدمہ قتل میں 7 کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہرگوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے آٹھ افراد کے قتل کے مقدمہ میں سات ملزمان کو آٹھ آٹھ بار موت اور پانچ پانچ بار عمرقید کی سزا دی ہے جبکہ تین ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کیا ہے۔عدالت نے سترہ مفرور ملزموں کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔ چار جون سنہ دوہزار پانچ کو کھاریاں کی عدالت میں ایک مقدمہ قتل کے سلسلے میں آنے والے آٹھ افراد کو ان کے مخالفین نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا جبکہ حملے میں چند افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ دونوں فریقین میں پینتالیس برس سے دشمنی چل رہی ہے جس میں پہلے ہی متعدد افراد قتل ہوچکے تھے۔ آج بری ہونے والے ایک ملزم کالے خان کو ایک دوسرے مقدمے میں ڈیڑھ برس پہلے ہی دو بار سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جاچکی ہے جس وجہ سے کالے خان پہلے سے ہی کال کوٹھڑی میں بند ہے۔ حالیہ مقدمے کی سماعت جیل کے اندر ہوئی اور جیل کے کورٹ روم میں ملزموں کو بلا کر انہیں سزاسنائی گئی۔ سزا پانے والے تمام افراد کو ساڑھے نو نو لاکھ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس مقدمہ میں مجموعی طور پر ستائیس ملزمان نامزد تھے جن میں سے سات کو سزا، تین کو بری کیا گیا ہے جبکہ بارہ ابھی تک مفرور ہیں۔ | اسی بارے میں ’موت کی سزا ختم کی جائے‘25 January, 2007 | پاکستان لشکر کے دواراکین کوسزائےموت31 October, 2006 | پاکستان لاہور: دس افراد کو سزائے موت08 July, 2006 | پاکستان چار کو سزائے موت، تین کو عمر قید22 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||