اسلام آباد: حساس علاقے سے بم برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی دارالحکومت میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں بری امام کے مزار کے راستے میں ایک دستی بم برآمد ہوا ہے جسے بم ڈسپوزل کے عملے نے قبضہ میں لے لیاہے۔ چار مبینہ شدت پسندوں کی اسلام آباد داخلے کی کوشش کی اطلاعات کے بعد سے ان دنوں شہر میں سکیورٹی پہلے سے ہی ہائی الرٹ پر ہے۔ ایس ایس پی اسلام آباد سکندر حیات نے کہا ہے تین روز سے اہم اور حساس مقامات پر پولیس فورس کے علاوہ فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہکار بھی تعینات ہیں۔ یہ اہلکار ڈپلومیٹک انکلیو کے سامنے اور کانسٹی ٹیویشن ایوینیو (شاہراہ دستور) پر نظر آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد اور روالپنڈی میں ہوٹلوں اور بس اڈوں پر بہی ہائی الرٹ ہے اور لوگوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق مبینہ شدت پسندوں کا تعلق کالعدم جہادی تنظیم سے بتایا جاتا ہے جو اسلام آباد میں شدت پسندانہ کارروائی کی نیت سےداخل ہوئے ہیں۔ پولیس اور انیٹیلجنس کے اہلکار تاحال انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ادھر راولپنڈی پولیس نے تھانہ آر اے بازار میں گرفتار تین ملزمان سے برآمد ہونے والے ہینڈ گرنیڈ اور دیگر بم باردو کا معائنہ کرنے کے لیے سول ڈیفنس بم ڈسپوزل کے ماہرین کو بلایا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دو ملزمان عزیر حسین عرف عثمان چھوٹو اور رشید ستی کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ پولیس کے مطابق ان دنوں میں سے ایک کے سر کی قمیت بھی مقرر تھی۔ پولیس نے تاحال ان دو افراد کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے البتہ سول ڈیفنس بم ڈسپوزل کے عملے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ان سے برآمد ہونے والے دستی بموں کا معائنہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی سے مشتبہ خودکش بمبارگرفتار16 February, 2007 | پاکستان سرحد اسمبلی کے سامنے سے بم برآمد14 January, 2007 | پاکستان خود کش حملہ نہیں تھا: وزیر اطلاعات 06 February, 2007 | پاکستان اسلام آباد ایئرپورٹ پر دھماکہ، حملہ آور ہلاک06 February, 2007 | پاکستان اسلام آباد: خودکش حملہ، دو ہلاک26 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||