BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 February, 2007, 04:32 GMT 09:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک ایران سرحد: بلوچ مزدور متاثر

بلوچستان
بلوچستان کے کچھ پسماندہ علاقوں میں لوگوں کا پاک ایران سرحد پر آمد و رفت سے روزگار وابستہ ہے
پاکستان نے ان سات ایرانی باشندوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں بلوچستان کے جنوبی شہر تفتان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ملک میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

ایران نے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دو دن پہلے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی۔ سرحد کی بندش سے وہاں کام کرنے والے ہزاروں مزدور کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔

رات گئے تفتان میں بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان نےگرفتار سات ایرانی باشندوں کی رہائی کے احکامات جاری کردیے ہیں جس کے تحت انہیں جمرات کے روز رہا کر کے ایران کے حوالے کیا جائےگا۔

انہوں نے توقع ظاہرکی کہ اس طرح جمعے کے روز سے دوبارہ سرحد معمول کے مطابق کھل جائے گی۔

ایرانی حکومت نے منگل کے روز اس وقت تفتان میں پاکستان کے ساتھـ اپنی سرحد بند کی تھی جب پاکستانی سیکورٹی فورسز نے پیر کی رات کو ایرانی باشندون کوتفتان میں گرفتار کر لیا تھا۔

ایران نے کہا تھا کہ جب تک گرفتار ایرانی باشندوں کو رہا نہیں کیاجاتا اس وقت تک ایران پاکستان کے ساتھـ اپنی سرحد بند رکھےگا۔

سرحد بند ہونے کی وجہ سے تفتان میں سرحد پار کام کرنے والے پانچ ہزار سے زیادہ مزدور متاثر ہوئے ہیں۔ ان مزدورں کومقامی زبان میں ( بڈوکی ) بھی کہا جاتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سرحد پر مال برداری کرتے ہیں یعنی پاکستان سے چیزیں ایران اور ایران سے پاکستان لاتے ہیں جس سے انہیں روزانہ پانچ سے چھ سو روپے مزدوی مل جاتی ہے لیکن سرحد بند ہونے کی وجہ سے اب وہ بے روزگار ہیں۔

دوسری جانب پاکستان اورایران کے درمیان 1957 کے معاہدے کے تحت روزانہ پاکستان سے لاکھوں روپے کی پھل اورسبزیان ایران جاتی ہیں اور ایران سے پلاسٹک کا سامان اور دیگر چیزیں پاکستان آتی ہیں۔

اس سلسلے میں تفتان فروٹ مارکیٹ کے صدرحاجی زعفران بڑیچ نے بتایا کہ اگر مزید ایک دو دن اور سرحد بند رہی تواس سے یہاں کے تاجرون کے پھل اورسبزیاں سڑ جائیں گی جس کے نتیجے میں انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کوحل کریں تاکہ سرحد پرایران کو پھلوں اورسبزیوں کی سپلائی دوبارہ شروع ہو سکے۔

تفتان سرحد پر ایرانی باشندوں کی گرفتاری کے سلسلے میں جب وہاں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے بعض ذمہ دار افسران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی بھی جواب دینے کے لیے تیارنہ ہوا البتہ تفتان کے نائب انتظامی افسر سردار رفیق ترین نے بتایا کہ گرفتار ایرانی باشندوں پر پاکستان میں غیرقانونی طو رپر داخلے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ تفتان کے ساتھ ساتھ نوکنڈی، دالبندین اور بلوچستان کے دیگر جنوبی علاقوں کے زیادہ تر لوگوں کا روزگار بھی تفتان کے سرحد پر پاک ایران تجارت سے وابستہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد