مشرف،6 سال میں ایران کا پہلا دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں جنرل پرویز مشرف ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سے مذاکرات کے لیے پیر کی صبح تہران پہنچ رہے ہیں۔ ایرانی خبررساں ادارے ارنا نے پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران کا دورہ صدر مشرف کی طرف سے اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجوں پر مسلمان ممالک کے رہنماؤں سے اعلی سطح پر بات چیت کے سلسلے کی کڑی ہے۔ اسی سلسلے میں صدر مشرف نےگزشتہ ماہ سعوی عرب، مصر، شام، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کا دورہ کیا تھا۔ اسلامی ملکوں کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل صدر مشرف نے ایرانی صدر احمد نژاد اور ترکی کے صدر اور وزیر اعظم سے بھی ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر مشرف کا گزشتہ چھ سالوں میں ایران کا پہلا دورہ ہے اور یہ اس حوالے سے بھی بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا تنازعہ بہت حساس اہمیت کا حامل ہے اور اس کے ایران کے علاوہ پوری مسلم دنیا پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ہمسائے اور اس سے درینہ تعلقات ہونے کے ناطے پاکستان بھی اس مسئلہ پر تشویش کا شکار ہے۔ ریاض کھوکھر نے کہا کہ ایران مشرق وسطی میں ایک انتہائی اہم رول رکھتا ہے اور اس کے علاوہ شیعہ سنی منافرت کے تناظر میں بھی ایران اہمیت کا حامل ہے۔ | اسی بارے میں بش کا خطاب، پاکستان کا ذکر نہیں24 January, 2007 | آس پاس ’مشرف وردی نہیں اُتاریں گے‘24 January, 2007 | پاکستان ’وردی کا فیصلہ انتخابات کریں گے‘26 January, 2007 | آس پاس طالبان سے رعایت، مشرف کا اعتراف02 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||