BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 February, 2007, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت نےیو ٹرن لے لیا ہے‘

کشمیر ریلی
’حکومت ایک طرف یوم یکہتی کشمیر منا رہی ہے اور دوسری طرف بھارت سے دوستی کر رہی ہے‘
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مذہبی تنظیموں کی جانب سے کراچی شہر میں منظم کیے گئے جلسے اور جلوسوں میں پاکستان کی موجودہ حکومت پر الزام لگایا گیا کہ اس نے مسئلہ کشمیر پر ’یو ٹرن‘ لے لیا ہے۔

کراچی پریس کلب کے سامنے جماعت الدعوۃ کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مقررین نے (کشمیر میں) جہاد جاری رکھنے کا عزم کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین مفتی عثمان یار خان، مولانا یحییٰ بھٹی، مولانا کلیم اللہ اور دیگر نے کہا کہ حکومت ایک طرف کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منا رہی ہے اور دوسری طرف ہندوستان سے، جو کشمیریوں پر مظالم میں ملوث ہے، دوستی کی جا رہی اور اس کے ساتھ تجارت بڑھانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ کشمیریوں کے خون پر بھارت سے تجارت اور دوستی کے معاہدے کامیاب نہیں ہونے دیئے جائیں گے، ایک لاکھ کشمیریوں نے ان مقاصد کے لیے جانوں کی قربانی نہیں دی‘۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف جہاد میں مضمر ہے۔ ’مجاہدین بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف ہر صورت میں جہاد جاری رکھیں گے‘۔

بے معنی تجارت
 جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا بھارت سے تجارت کے معاہدے بے معنی ہیں
وزیر اعلیٰ سندھ

جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے نکالی گئی ’کشمیر بچاؤ ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مجاہدین کا ساتھ دے۔

حزب التحریر کی جانب سے شہر بھر میں دیواروں پر پوسٹر آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر لکھا ہوا ہے کہ اگر’ کشمیر کا سودا‘ کیا گیا تو یہ کشمیروں کے خون سے غداری اور امن کے نام پر ایٹمی منصوبے کا مکمل خاتمہ ہوگا۔

شہر میں بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار سے شہری حکومت کی جانب سے ’کشمیر یکجہتی ریلی‘ بھی نکالی گئی، جس کی سربراہی سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کر رہے تھے۔

ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا بھارت سے تجارت کے معاہدے بے معنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف کے عوام کے مطالبے پر تھر ایکسپریس ریل سروس شروع کی گئی تھی، مگر بھارتی حکومت نے بہانے بنا کر اسے بند کردیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد