چھ بچے ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے جنوبی شہر بہاولپور میں چھ بچے ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک شدگان کی عمریں نو سے بارہ برس کے درمیان تھیں۔ پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں ان کے والدین کے حوالے کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام بچے بہاولپور کی ایک بستی غریب آباد کے رہائشی تھے۔ یہ بستی بہاولپور کی دیگر کئی آبادیوں کی طرح ریلوے ٹریک کے ارد گرد واقع ہے۔ یہ بچے صبح نو بجے کے قریب ریلوے ٹریک کے قریب کھیل کود کے دوران پٹری پر آگئے۔ اسی دوران کراچی سے لاہور جانے والی ٹرین آگئی اور بچے اس کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔ بچوں کی لاشیں جب ان کے گھروں میں پہنچیں تو وہاں کہرام مچ گیا۔ جس مقام پر بچے ہلاک ہوئے ہیں وہ جگہ بہاولپور کے ریلوے سٹیشن سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے ٹریک کے اردگرد باڑ لگائی جائے تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے۔ اس حوالے سے ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کراچی ایکسپریس کی رفتار ایسی ہوتی ہے کہ فوری بریک نہیں لگ سکتی تھی۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر باڑ لگانا اور پھر اس کی حفاظت کرنا مشکل کام ہے کیونکہ ان کے خیال لوگ خود اس باڑ کو کاٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے ٹریک کے نزدیک قائم تجاوزات کی مسماری | اسی بارے میں بجلی کے تار گرنے سے دس افراد ہلاک28 January, 2007 | پاکستان ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک 13 July, 2005 | پاکستان ٹرین حادثہ: چار ہلاک، تیس زخمی29 January, 2006 | پاکستان ٹرین دھماکوں میں دو افراد ہلاک 18 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||