BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مساجد گرائے جانے کے خلاف ریلی

علماء نے گرائی جانے والی مساجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا
اسلام آباد اور راولپنڈی میں حکومت کی جانب سے غیرقانونی قرار دے کر گرائی جانے والی دو مساجد کے خلاف بدھ کو اتحادِ تنظیماتِ مدارس دینیہ کی اپیل پر احتجاجی جلوس نکالا گیا۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کی مختلف مساجد اور مدارس سے چھوٹے چھوٹے جلوس میلوڈی چوک میں جمع ہوئے اور جلسے کی شکل اختیار کی۔

مولانا ظہور احمد اور مولانا عبدالعزیز سمیت دیگر مقررین نے مساجد گرانے کو گناہ قرار دیا اور کہا کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں ایسا کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔

مقررین نے دھمکی دی کہ اگر آئندہ سکیورٹی کے نام پر کسی بھی مسجد کو گرانے کی کوشش کی گئی تو وہ بھرپور مزاحمت کریں گے۔

حکومت کی جانب سے دونوں مساجد کو گرانے کے بعد علماء نے دوبارہ تعمیر شروع کرنے کا اعلان کیا۔

مقررین نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف چرچ اور مندروں کے لیے رقوم فراہم کی جاتی ہیں دوسری طرف اللہ کے گھروں کو گرایا جاتا ہے تاکہ حکمران امریکہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔

شرکاء نے احتجاجی بینرز اٹھا رکھےتھے

سینکڑوں افراد کے اجتماع کے بیشتر شرکاء نوجوان اور دینی مدارس کے طلباء تھے۔ شرکاء نے حکومت کے خلاف زوردار نعرے لگائے۔

میلوڈی کے مصروف چوک پر ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک ٹریفک معطل رہا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ترقیات کے متعلق ادارہ ’سی ڈی اے‘ نے چند روز قبل دو مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر گرادیا تھا جبکہ کچھ مزید مساجد اور مدارس کو گرانے کے نوٹس بھی جاری کیے تھے۔

متاثرہ مساجد میں سے ایک مری روڈ پر فیض آباد کے قریب جبکہ دوسری راول چوک کے قریب واقع تھی۔

انتظامیہ نے کہا تھا کہ دونوں مساجد سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تعمیر کی گئی ہیں اور چونکہ دونوں اس اہم شاہراہ پر واقع ہیں جہاں سے صدر، وزیراعظم اور دیگر اہم شخصیات اور غیر ملکی وفود وغیرہ گزرتے ہیں اس لیے وہ سکیورٹی کا مسئلہ بن سکتی تھیں۔

ہنگامی صورت حال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورس تعینات کی گئی تھی

ادھر مساجد گرائے جانے کے بارے میں مذہبی امور کے وزیر اعجاز الحق نے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاو سے رابطہ کرکے مزید کارروائی نہ کرنے پر بات چیت کی ہے۔ حکومت نے علماء سے بھی رابطہ کیا ہے اور امکان ہے کہ فریقین کے درمیاں جمعرات کو ملاقات ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں نو تعمیر کردہ سڑکوں کے سامنے بھی اگر مسجد آتی تھی تو سڑک کا رح موڑ دیا جاتا تھا وہاں غیر قانونی تعمیرات کی بنا پر مساجد گرانا اپنی نوعیت کا ایک بڑا فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
’مساجد کی نگرانی کریں‘
14 July, 2004 | پاکستان
مساجد میں سکیورٹی سخت
12 October, 2004 | پاکستان
مساجد میں نمازیوں کی تلاشی
08 October, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد