مساجد میں سکیورٹی سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مساجد میں سکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنائے گی۔ لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں کی جانے والی منصوبہ بندی میں صوبے میں موجود چونتیس ہزار مساجد میں محافظوں کو تعینات کیے جانے کے ساتھ ساتھ میٹل ڈیٹیکٹر نصب کیے جانا بھی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس پروجیکٹ کے لیے مقامی مساجد کی سطح پر لوگوں سے عطیات حاصل کر کے فنڈ جمع کیے جائیں گے جبکہ کم از کم پچاس فیصد اخراجات مقامی کونسلیں اٹھائیں گی۔ پاکستان میں بیشتر مساجد کا انتظام لوگوں کی جانب سے دیئے جانے والی عطیات کی بنا پر چلتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مساجد کی سکیورٹی کو لاحق خطرے کے باعث عبادت کے لیے نے والوں کی تعداد میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بہت سے لوگ عطیات دینے پر رضامندی کا اظہار کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے فیصل آباد کی مسجد کے باہر محافظ تعینات کیے جانےکے اقدام کو سراہا کیونکہ پیر کی سہ پہر دو مشتبہ شدت پسند مسجد میں داخل ہونے میں ناکام ہو گئے تھے۔ تاہم پولیس نے اس واقعہ کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی ہیں البتہ وزیر اعلیٰ کے مطابق ان دونوں میں سے ایک مبینہ شدت پسند عورت کے بھیس میں تھا اور اس کے پاس ایک پستول بھی تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||