BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 January, 2007, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان کے مرکزی بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر
ڈاکٹر شمشاد کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے
پاکستان کے مرکزی بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشماد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے جس سے افراط زر مقررہ ہدف سے زیادہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔

کراچی میں جمعرات کی شام مالی سال کی دوسری ششماہی کے لیے مالیاتی پالیسی جاری کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سخت مالیاتی پالیسی کی وجہ سے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں اور افراط زر میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر کمی ہوئی ہے لیکن اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی شرح اب بھی زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا مثلاً پیاز ، آلو ، دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب موسم تبدیل ہوتا ہے توکھانے پینے کی اشیا کی کمی ہو جاتی ہے جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر شمشماد کے مطابق مہنگائی پر کنٹرول کے لیے حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر اس کے نتائج بہت کم سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر سے قرضے لینے کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جون دو ہزار چھ میں زرمبادلہ کے ذخائر تیرہ بلین تھے جن میں بعد میں کمی ہوئی مگر اب یہ ذخائر بارہ عشاریہ نو فیصد بڑھ گئے ہیں۔

اسی بارے میں
بیروزگاری میں اضافہ: رپورٹ
30 October, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد