اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مرکزی بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشماد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے جس سے افراط زر مقررہ ہدف سے زیادہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔ کراچی میں جمعرات کی شام مالی سال کی دوسری ششماہی کے لیے مالیاتی پالیسی جاری کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سخت مالیاتی پالیسی کی وجہ سے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں اور افراط زر میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر کمی ہوئی ہے لیکن اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی شرح اب بھی زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا مثلاً پیاز ، آلو ، دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب موسم تبدیل ہوتا ہے توکھانے پینے کی اشیا کی کمی ہو جاتی ہے جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر شمشماد کے مطابق مہنگائی پر کنٹرول کے لیے حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر اس کے نتائج بہت کم سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر سے قرضے لینے کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون دو ہزار چھ میں زرمبادلہ کے ذخائر تیرہ بلین تھے جن میں بعد میں کمی ہوئی مگر اب یہ ذخائر بارہ عشاریہ نو فیصد بڑھ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’مالیاتی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے‘02 December, 2006 | پاکستان خاتون گورنر کے دستخط شدہ نوٹ13 March, 2006 | پاکستان سٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر03 December, 2005 | پاکستان قیمتوں میں اضافہ متوقع: سٹیٹ بنک29 December, 2004 | پاکستان بیروزگاری میں اضافہ: رپورٹ30 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||