BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 January, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان سے لاشوں کی آمد

طالبان
افغانستان میں ہلاک ہونے والوں کی پاکستان میں تدفین کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے
پاکستان کی سرحد کے قریب مشرقی افغان صوبے پکتیکا میں گزشتہ روز نیٹو اور افغان افواج کی کارروائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کئی افراد پاکستانی بتائے جاتے ہیں۔

ان میں سے کئی کی لاشیں تدفین کے لیے واپس پاکستان لائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کے برمل ضلع میں افغان اور نیٹو فورسز نے دو روز قبل یہ بڑی کارروائی کی تھی۔ یہ علاقہ پاکستان کے قبائلی خطے وزیرستان کے ساتھ واقع ہے۔

نیٹو فورسز نے اس کارروائی میں پاکستان میں جمع ہونے اور بعد میں سرحد پار کرنے والے ڈیڑھ سو مشتبہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے علاقے میں بھی محدود کارروائی کی تھی۔

علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے کئی کی لاشیں تدفین کے لیے وزیرستان لائی گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق انہیں وزیرستان کے مختلف علاقوں میں آج دفنایا گیا ہے۔

تاہم ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد ابھی واضح نہیں۔ اس بابت سرکاری ذرائع کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔

وزیرستان کے علاوہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے ملنے والی خبروں کے مطابق پکتیکا میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی لاشیں وہاں دفنائی گئی ہیں۔ اپنے آبائی علاقے قندپاری میں دفنائے جانے والوں کے نام محمد انیس ولد فضل منان اور عبدالودود ولد میر حبیب بتائے جاتے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ دونوں افغانستان محنت مزدوری کے لیے گئے تھے۔

بڑی تعداد میں زخمی افراد کے لائے جانے کی بھی خبر ہے تاہم اس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

وزیرستان میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو کے دعوے کے برعکس ہلاکتیں بہت کم ہوئی ہیں۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں لوگوں نے بتایا کہ آج دن بھر پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹر پروازیں کرتے رہے جبکہ بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوسی طیارے بھی کافی اونچائی پر فضاء میں چکر لگاتے رہے۔

اسی بارے میں
150 مزاحمت کار ہلاک: نیٹو
11 January, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد