کشمیر: ہزاروں کی بجلی کٹ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بجلی کے محکمے نے واجبات ادا نہ کرنے پر زلزے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً تین ہزار صارفین کو بجلی کی فراہمی روک دی ہے۔ حکام کی جانب سے یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب متاثرہ علاقوں میں برف باری اور بارشوں کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے ۔ محکمہ برقیات نے یہ کارروائی مظفرآباد کے جنوب میں واقع وادی جہلم میں کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وادی جہلم میں عام صارفین کے ذمے مجموعی طور پر پندرہ کروڑ روپے کے واجبات ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ صرف ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی روکی گئی ہے جہاں تمام یا لگ بھگ نوے فیصد صارفین نے اس سال جنوری سے اب تک یعنی پورے سال کے بجلی کے واجبات ادا نہیں کئے ہیں۔ محمکہ برقیات کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان علاقوں کے صارفین کو متعدد بار واجبات ادا کرنے کے لئے کہا لیکن حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کے بعد مجبوراً ان کو یہ کارروائی کرنا پڑی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے اس علاقے میں اس وقت مجموعی طور پر لگ بھگ ایک ارب روپے عام صارفین کے ذمے ہے جس میں انستالیس کڑوڑ روپے صرف دو اضلاع مظفرآباد اور وادی نیلم کے لوگوں کو ادا کرنے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے پانی و بجلی کے ادارے واپڈا سے بجلی خریدتے ہیں اور لوگوں سے واجبات وصول کئے بغیر ہمیں واپڈا کو ادایئگی کرنا مشکل ہوتی ہے ۔ لیکن وادی جہلم میں متاثرین کا کہنا ہے کہ محکمہ برقیات کی طرف سے بھیجے جانے والے بل زیادہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بل ادا نہیں کئے۔ زلزے میں گھروں کے ساتھ ساتھ میڑ بھی تباہ ہوئے اور حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اوسط نکال کر بل روانہ کئے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں مظفرآباد: ٹیلیفون کنکشن کٹ گئے03 May, 2006 | پاکستان زلزلہ: بچھڑنے والے افراد کی تلاش08 June, 2006 | پاکستان کشمیر میں ٹی وی کیبل سروس بند 10 May, 2006 | انڈیا کشمیری خاندانوں کی دوبارہ منتقلی02 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||