ایم ایم اےشہادت کے لیے تیار؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کی جانب سے نیا حسبہ بل تو منظور ہوگیا لیکن اس سے متعلق عوامی حلقوں اور حزب اختلاف کے اعتراضات بدستور موجود ہیں۔ کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق آئندہ برس عام انتخابات کے امکانات کی وجہ سے ایم ایم اے اب ’سیاسی شہادت‘ کے لیے بھی تیار ہے۔ سرحد اسمبلی میں حِسبہ بل پر بحث ماضی کے مباحثوں سے قدرے مختلف رہی۔ حزب اختلاف کا احتجاج ماضی کی طرح ہنگامہ خیز نہیں تھا۔ تاہم حزب اختلاف کے اس بل کے نتیجے میں وجود میں آنے والے محتسب کےادارے کے بارے میں شکوک وشبہات ماضی جیسے ہی تھے۔ کئی اراکین کےخیال میں اس بل کو اس وقت منظور کرانے کا مقصد آئندہ انتخابات پراثر انداز ہونا ہے۔ پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے رکن اسمبلی سکندر شیرپاؤ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس ادارے کے قیام کا مقصد آئندہ برس کے انتخابات میں دھاندلی کرانا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ صوبائی، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر قائم ہونے والے محتسب کے طاقتور ادارے ایم ایم اے کے لیے انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آزاد تجزیہ نگار بھی اس رائے سے اس حد تک متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اس بل کو اس وقت پیش کرنے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ اب دینی جماعتوں کا اتحاد ’سیاسی شہادت‘ کے لیئے تیار ہے۔ صحافی سلیم صافی کا ماننا ہے کہ اتحاد کی دوسری بڑی جماعت یعنی جماعت اسلامی ابتدا میں اس بل کے بارے میں کوئی زیادہ پرجوش نہیں تھی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس نئے نظام کے تحت بڑی جماعت جعمیت علماء اسلام کے مولویوں کو ہی نوکریاں ملیں گی۔ لیکن سلیم کا کہنا ہے کہ اب جماعت اسلامی بھی اس کی بھرپور حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ’سیاسی شہادت’ انہیں آئندہ انتخابات میں فائدہ پہنچائے گی۔
حسبہ بل سے متعلق بحث اکثر اس نکتے پر اڑی رہتی ہے کہ یہ آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ وفاقی حکومت پچھلے بل کو سپریم کورٹ میں اسی بنیاد پرگھسیٹ کر لی گئی۔ ایم ایم کا کہنا ہے کہ نئے بل میں کوئی شق آئین کے خلاف نہیں اور سپریم کورٹ کی رائے کو ملحوض خاطر رکھ کر اسے تیار کیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے بل میں کوئی ایسی شق نہیں چھوڑی گئی جس پر سپریم کورٹ نے اعتراض کیا ہو۔ لہذا ان کے خیال میں اب اسے دوبارہ عدالت میں لے جانے کا سوال نہیں اٹھتا۔ انہوں نےاسے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے لیےاستعمال کے الزام کو بھی مسترد کیا۔ البتہ عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر بلور کا کہنا ہے کہ:’ بل کی کئی باتیں اب بھی آئین کے خلاف ہیں۔عدالت نے کہا تھا کہ انتظامیہ اور عدلیہ کو اکٹھا نہ کیا جائے تاہم نئے بل میں پھر محتسب تحقیقات بھی کرے گا اور اس پر سزا بھی دے گا۔ اور اس فیصلے کے خلاف اپیل سننے کا حق بھی صرف وزیر اعلی کے پاس ہوگا۔ تو وزیر اعلی تو چیف جسٹس بھی بن گئے۔ یہ کیسا قانون ہے؟ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اعلی عدالت اسے نہیں نافذ ہونے دے گی‘۔ نئے بل میں محتسب کے عوامی مقامات پر اسلام کی اخلاقی اقدار پر عملدرآمد کی نگرانی کرانے، شادیوں اور دیگر خاندانی تقریب پر بےضرورت خرچ کی حوصلہ شکنی کرنے، جہیز دینے کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات پر عمل کرانے، افطار اور تراویح کے مواقع پر اسلامی اقدار کی سختی سے عملدرآمد کرانےاورآذان اور فرض نمازوں کے اوقات میں اسلام کی پابندی کی نگرانی کرنے جیسے اختیارات کا ذ کر نہیں ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت کے لیئے گزشتہ تین برسوں کے دوران حِسبہ ادارے کا قیام ایک چیلنج رہا۔ تمام تر کوششوں کے بعد، اُس کے لیے اِس سے پیچھے ہٹنا سیاسی خودکشی ثابت ہوسکتی تھی۔ اب جب موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت کے آخری سال میں داخل ہوئی ہیں تو ایم ایم اے زیادہ بولڈ اقدام اٹھا سکتی ہے۔ سلیم کا کہنا ہے کہ:’ صدر پرویز مشرف قبل از وقت انتخابات کے خواہاں ہیں۔ ’اگر ایم ایم اے حدود آرڈنینس اور حسبہ پر مستعفی ہوتی ہے تو حکومت ب خوشی نئے انتخابات کرا سکتی ہے‘۔ نئے بل کی منظوری کے بعد ایک مرتبہ پھر تمام نظریں وفاقی حکومت پر لگی ہیں۔ | اسی بارے میں حسبہ بل سرحد اسمبلی میں11 July, 2005 | پاکستان حسبہ کا بل کیا ہے؟11 July, 2005 | پاکستان حسبہ بل پر سماعت ملتوی25 July, 2005 | پاکستان ’طالبان طرزحکومت واپس آجائےگا‘ 01 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||