مشرف مخالف تحریک پرمشاورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کےصدر قاضی حسین احمد نےحکومت مخالف قومی مجلس مشاورت بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی ماہ بلائی جانے والے اس قومی مجلس مشاورت میں صدر مشرف کے خلاف تحریک چلانے کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔ قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کی مجلس شوری کے تین روزہ اجلاس کے بعدلاہورمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قومی مجلس مشاورت میں دینی اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ قانونی اور معاشی ماہرین بھی شرکت کریں گے۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت میں شریک جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس قومی مجلس مشاورت میں صدر مشرف کے خلاف تحریک چلانے کے معاملے پر اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ اس تحریک کا آخری مرحلہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی شکل میں ہوگا تاہم انہوں نےاس مرحلے کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ بتانے سے انکار کیا۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما اس وقت سے مشرف مخالف تحریک چلانے کا اعلان کرتے رہے ہیں جب ان کے بقول صدر مشرف نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اکتیس دسمبر دو ہزار چار کو اپنی وردی نہیں اتاری تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دو برس کے دوران مجلس عمل کے رہمناؤں نےلگاتار فیصلہ کن تحریک چلانے کے اعلانات تو کیے لیکن ابھی تک یہ نہ تو شروع ہوسکی اور نہ ہی کسی حتمی تاریخ کا تعین ہوا ہے۔ منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس میں جب یہی سوال بار بار پوچھاگیا تو امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ’ان کے پاس کوئی آرمی تو ہے نہیں جسے وہ حکم دیں گے اور تحریک شروع ہو جائےگی‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی تحریک ہوگی جسے چلانے کا فیصلہ لیڈر کریں گے پھر کارکن نکلیں گے اور اس کے بعد عوام باہر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کا کوئی ٹائم ٹیبل دینا ممکن نہیں ہے یہ فیصلہ تو عوام کو کرنا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مجلس شوری نے باجوڑواقعہ کے خلاف جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید اور سرحد حکومت کے سنیئر وزیر سراج الحق کے استعفوں کی حمائت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تمام ارکان حکومت مخالف تحریک کے دوران قومی اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں گے۔ تاہم ان کے استعفی کب پیش کیے جائیں گے اس کا فیصلہ ان کے بقول مجلس عمل اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سےمشورہ کے بعد کیا جائےگا۔ جماعت اسلامی کےامیر نےاس بات کی تردید کی کہ منتخب اسمبلیوں سے مستعفی ہونےاور تحریک چلانے سے متعلق سوال پر دینی جماعتوں کےاتحاد مجلس عمل کےاندراختلافات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے کچھ لوگوں کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ اپوزیشن میں اختلافات پیدا کریں اور مجلس عمل میں دراڑ ڈالیں جو ان کے بقول ملک قوم کی خدمت نہیں ہے بلکہ جرنیلوں کی خدمت کےمترادف ہے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے صدر مشرف اور موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ حکومت امریکی دباؤ میں ہے اور باجوڑ میں امریکی حملے کو اپنے سر لے رہی ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ: منگل کو یوم احتجاج30 October, 2006 | پاکستان ’فوجی نصب العین سے انحراف‘22 September, 2006 | پاکستان حکومت سے علیحدگی پر غور27 August, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد14 September, 2006 | پاکستان یومِ احتجاج: ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||