پی پی پی: چالیس کی ضمانت منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے ایک سول جج نے پیر کے روز پیپلز پارٹی کے چالیس کارکنوں کی ساڑھے آٹھ برس قبل پارلیمان کے سامنے مظاہرہ کرنے کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کے گرفتاری وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے وقت مقدمے میں مطلوب پچاس ملزمان میں سے چالیس عدالت میں حاضر نہیں تھے۔ عدالت نے کارروائی میں موجود دس کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کی ضمانت منسوخ نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ مقدمہ بائیس اپریل انیس سو اٹھانوے کو پارلیمان کے سامنے انسداد دہشت گردی کے بارے میں بنائے گئے قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے پر دائر کیا گیا تھا۔ بیان کے مطابق اس قانون کو بعد میں جب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو اس کے کئی حصوں کو عدالت نے ختم کردیا تھا۔ کیونکہ ان کے مطابق اس قانون کے تحت فوجی عدالتین قائم کی جارہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک ترجمان فرحت اللہ بابر کا، جو خود بھی اس مقدمے میں نامزد ملزم ہیں، کہنا ہے کہ اس قانون کے خلاف عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ایک لحاظ سے ان کے موقف کی تائید کرتا ہے لیکن حکومت کا بنایا گیا مقدمہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں میں ان کی جماعت کے نامزد کردہ سیاسی کارکن کم از کم چالیس بار عدالت میں پیش ہوچکے ہیں اور ہمیشہ عدالت نئی تاریخ دے دیتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ مقدمہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں داخل کیا گیا تھا اور اس وقت مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا تھا۔ | اسی بارے میں مرتضیٰ کیس میں زرداری کے وارنٹ19 December, 2005 | پاکستان رضا گیلانی کی ضمانت منظور 05 October, 2006 | پاکستان حکومت سے ڈیل نہیں: گیلانی06 October, 2006 | پاکستان مکیش اور سنجے کی ضمانت23 June, 2006 | پاکستان جنرل زاہد علی اکبر کے وارنٹ جاری05 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||