BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 October, 2006, 12:48 GMT 17:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت سے ڈیل نہیں: گیلانی

یوسف رضا گیلانی
عدالت نے انہیں 2004 میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سے ضمانت منظور کیے جانے کے بعد جمعہ کو رہا ہونے والے پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی حکومت سے ’ڈیل‘ کی خبریں بے بنیاد ہیں اور ان کی رہائی عدالتی حکم کی وجہ سے ہوئی ہے۔

یہ بات انہوں نے پارٹی رہنما مخدوم امین فہیم کے ہمراہ دو سال کی قید کے بعد اپنی پہلی نیوز بریفنگ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار نہیں بلکہ فوج سے عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کا انتقال چاہتے ہیں۔

گیلانی نے کہا کہ یہ عجب اتفاق ہے کہ احستاب عدالت کے جس جج نے انہیں بےروزگاروں کو ملازمت دینے کے جرم میں قید کی سزا سنائی تھی وہ ان کی رہائی کے روز ریٹائر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’دیگر ساتھیوں کی طرح مجھے بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جمہوری حکومت کی بحالی کے لیے قید کاٹ کر قربانی دی ہے۔‘

اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قید کے دوران ان کی والدہ اور بہن کا انتقال ہوگیا اور ان کا انہیں بہت افسوس رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قید ان کے لیے نئی بات نہیں۔

قبل ازیں جب راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل سے وہ رہا ہوئے تو پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمٰن اور دیگر سمیت بیسیوں کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ کارکنوں نے پارٹی کے پرچم اور بینظیر بھٹو کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

یوسف رضا گیلانی کو جلوس کی شکل میں اسلام آباد میں واقع اپنی جماعت کے دفتر لایا گیا اور ان کے حامیوں نے ان پر گل پاشی بھی کی۔

واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف بطور سپیکر قومی اسمبلی مبینہ طور پر تین سو کے قریب غیرقانونی ملازمتیں دینے کا الزام تھا۔ انہیں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی۔

اس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ان کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے جمعرات کو انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی انیس سو ترانوے سے چھیانوے کے دوران قومی اسمبلی کے سپیکر تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
وہ اس مقدمہ میں دو سال سے قید تھے جبکہ اس سے قبل وہ ایک اور مقدمہ میں سنہ انیس سو ننانوے سے سنہ دو ہزار ایک تک قید رہے۔ ان کی وکالت اعتزاز احسن نے کی۔

یوسف رضا گیلانی کا دعویٰ رہا ہے کہ ان پر پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر حکمران مسلم لیگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا لیکن ان کے انکار پر انہیں احتساب کے مقدمات میں سزا دی گئی۔

اسی بارے میں
حکومت سے ڈیل نہیں: گیلانی
06 October, 2006 | پاکستان
یوسف رضا کو دس سال سزا
18 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد