نیٹوکمانڈر کی مشرف سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے منگل کی صبح راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون وسیع کرنے کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیٹو کے کمانڈر ڈیوڈ رچرڈز نے ملاقات میں کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد صدر جنرل پرویز مشرف، پاکستان حکومت، فوج اور سیکورٹی ایجنسیز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرنے پر شکریہ ادا کرنا ہے۔ بیان کے مطابق نیٹو کمانڈر نے کہا کہ افغانستان میں موجود ’انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس‘ یعنی ایساف چاہتی ہے کہ وہ پاکستان سے تعاون مزید وسیع کریں تاکہ شدت پسندوں اور طالبان کو شکست دے سکیں۔ انہوں نے صدر سے ملاقات میں کہا کہ ایساف سمجھتی ہے کہ افغانستان میں زیادہ تر مسائل ملک کے اندر سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور اس کی وجہ گزشتہ دو دہائیوں سے اس ملک میں عدم استحکام رہا ہے۔ بیان کے مطابق نیٹو کمانڈر نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کی مالی امداد کا بڑا ذریعہ پوست کی کاشت اور مجرمانہ سرگرمیاں ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے نیٹو کمانڈر سے ملاقات میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستحکم افغانستان کے حامی ہیں کیونکہ مضبوط افغانستان ہی پاکستان اور خطے کی ترقی کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برادرانہ اور پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان افغانستان تعمیر نوکے لیے قابل ذکر مدد کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے انہیں کئی مراعات بھی دے رکھی ہیں۔
صدر نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان اب بھی پچیس لاکھ کے قریب افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے اور افغانستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے نیٹو کمانڈر کو وزیرستان معاہدے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دہشت گردوں اور طالبان شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمانڈر رچرڈ نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسان الحق اور نائب آرمی چیف جنرل احسن سلیم حیات سے بھی ملاقات کی۔ صدر سے ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر، نیٹو کے اسلام آباد میں تعینات سیاسی مشیر اور پاکستان کے نائب آرمی چیف بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ جس طرح مغربی میڈیا اور بالخصوص برطانوی اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں اس سے ماحول کشیدہ ہونے کا تاثر مل رہا تھا۔ لیکن نیٹو کمانڈر کی صدر سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان سے صورتحال اس کے برعکس لگ رہی ہے۔ صدر مشرف سے نیٹو کمانڈر کی ملاقات سے قبل بعض برطانوی اور امریکی اخبارات نے دعویٰ کیا تھا کہ نیٹو انٹیلی جنس نے سیٹلائٹ کے ذریعے ایسے ثبوت حاصل کیے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سے طالبان کے حامی افغانستان میں داخل ہورہے ہیں اور افغانستان میں زخمی ہونے والے طالبان جنگجو پاکستان میں داخل ہورہے ہیں | اسی بارے میں نیٹو کمانڈر پاکستان پہنچ گئے09 October, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان ’کرزئی اندرونی خلفشار ختم کریں‘22 May, 2006 | پاکستان ’سینکڑوں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں‘08 September, 2006 | پاکستان جلال آباد طورخم سڑک کا افتتاح 13 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||