اب انٹر نیٹ پرمیوزک مفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریکارڈ شدہ موسیقی کا کاروبار کرنے والے سب سے بڑے عالمی ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ کاپی رائٹ کے چکر میں پڑنے کی بجائے وہ خود ہی اپنا میوزک انٹرنیٹ پر مفت جاری کر دے گا اور مالی منفعت کےلیئے صرف اشتہاروں پر بھروسہ کرے گا۔ انٹرنیٹ پر معلومات کا طوفان اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا تحفہ ہے اور یہ معلوماتی مواد محض حرفِ مطبوعہ تک محدود نہیں، اس میں ہر طرح کی تصاویر، خاکے، تقشے، گراف اور ہر قسم کی انسانی اور مشینی آوازیں بھی شامل ہیں۔ جِس طرح بیسویں صدی کے آغاز میں مختلف ایجادات کو ’پیٹنٹ‘ کرانے کا معاملہ ایک جنگ کی سی شکل اختیار کر گیا تھا اور فلمی کیمرے، پروجیکٹر، ساؤنڈ ریکارڈر اور ایمپلی فائر کی کئی قسموں کے بارے میں حقوقِ ملکیت اور حقوقِ استعمال نیز حقوقِ کاروبار اور حقوقِ فروخت کے طویل جھگڑے امریکی عدالتوں میں شروع ہوگئے تھے، کچھ اسی طرح کی کیفیت چند برس پہلے یونیورسل میوزک، ای۔ایم۔آئی، سونی میوزک، بی۔ ایم۔ جی اور وارنرمیوزک گو کہ سبھی کمپنیاں اپنے ریکارڈ شدہ میوزک کے کاروباری تحفظ پر کمر بستہ ہو کر میدانِ جنگ میں نِکل آئیں لیکن پانچ چھ برس تک عدالتوں کی خاک چھاننے کے بعد بھی یہ کمپنیاں میوزک چوروں کا قلع قمع کرانے میں ناکام رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر موسیقی جاری کرنے کے تین معروف کاروباری طریقے ہیں، اوّل: ہر گیت سُننے کا الگ معاوضہ ادا کیا جائے۔ دوم: ماہانہ ادائیگی کے ذریعے رُکنیت حاصل کرلی جائے اور متعلقہ اِدارے کے تمام جاری شدہ میوزک تک رسائی حاصل کرلی جائے اور سوم: کمپنی اپنا ہر طرح کا میوزک مفت فراہم کردے اور نیٹ پر ملنے والے اشتہاروں سے پیسہ کمائے۔ چونکہ موسیقی جاری کرنے والے اداروں کو پانچ چھ برس تک قانونی چارہ جوئی کے پاپڑ بیلنے کے بعد احساس ہوگیا ہے کہ موسیقی چوروں کا خاتمہ آسان نہیں ہے چنانچہ دنیا کی سب سے بڑی میوزک کمپنی ’یونیورسل‘ نے اب اپنا تمام ریکارڈ شدہ میوزک انٹرنیٹ پر مفت جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور موسیقی کے
کمپنی کے خیال میں موسیقی کے ذریعے براہِ راست پیسہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے جبکہ ذیلی اشتہارات کے ذریعے ٹھوس آمدنی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ’یونیورسل میوزک‘ اس وقت ریکارڈ شدہ موسیقی کی دنیا کا بادشاہ ہے اور قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ ہونے والی موسیقی کا 80 فیصد حِصّہ اِسی کمپنی کی ملکیت ہے۔ ویسے حقوقِ ملکیت کے سلسلے میں ہمت ہار جانے کی کیفیت محض انٹرنیٹ تک محدود ہے۔ جہاں تک ڈِسکوں اور کیسٹوں کا سوال ہے تو اُس سلسلے میں میوزک کمپنیاں چوری چکاری سے بہت حد تک بچی ہوئی ہیں۔ بد قسمتی سے غیر ملکی موسیقی کے ناجائز کاروبار میں چین کے بعد پاکستان پہلے نمبر پر رہا ہے۔ اِس وقت صورتِ حال اگرچہ کنٹرول میں ہے لیکن سن 2004 تک حالات ناگفتہ تھے جب بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 23 کروڑ ڈِسکیں بغیر حقوقِ ملکیت حاصل کئے تیار کی جارہی تھیں اور کوئی 46 ممالک کو سمگل کی جاتی تھیں۔ امریکی کمپنیوں نے اس سلسلے میں اپنی حکومت پر دباؤ ڈالا جس نے حکومتِ پاکستان کو متنبہ کیا اور یوں گزشتہ برس پاکستان بھر میں وڈیو اور آڈیو کیسٹوں کے ناجائز کاروبار پر حکومت نے شدید ضرب لگائی۔ اُس موقع پر وفاقی تفتیشی ادارے نے جو چھاپے مارے اُن میں صرف کراچی کے ایک مرکز سے 4 لاکھ سی ڈیز پکڑی گئیں اور دس ہزار ماسٹر ڈسکیں بھی برآمد ہوئیں جن سے بعد میں کاپیاں تیار کی جاتی ہیں۔ میوزک چوری کے خلاف سرگرمِ عمل بین الاقوامی اداروں نے حکومتِ پاکستان کی اِن موّثر کوششوں کو بہت سراہا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ پائریسی کا کاروبار ختم ہونے سے خود مقامی ریکارڈنگ انڈسٹری کو بھی سہارا ملے گا۔ | اسی بارے میں کترینا: امداد کیلیے موسیقی کا پروگرام10 September, 2005 | فن فنکار ستار نوازی سے آئس کریم تک25 February, 2006 | فن فنکار فرید ایاز: خسرو کے سنگ23 June, 2006 | فن فنکار انٹرنیٹ فلموں پر مقدمات کا فیصلہ06 November, 2004 | فن فنکار بالی ووڈ کا میڈ ان پاکستان 15 March, 2005 | فن فنکار ہیری پوٹر، غیر قانونی کاپیاں ضبط02 August, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||