’منموہن سے ٹھوس مذاکرات ہونگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کیوبا کے اجلاس کے دوران وہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ٹھوس مذاکرات کریں گے۔ غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیئے کیوبا روانگی سے پہلے اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پوری کوشش ہوگی کے یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو۔ ممبئ میں ریلوں پر حملوں کے بعد پہلی بار اس مجوزہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ عہدیدار تبادلۂ خیال کریں گے۔ غیر وابستہ ملکوں کی تحریک جس میں ایک سو سولہ ملک شامل ہیں اس کا اجلاس کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ہورہا ہے۔ صدر مشرف نے یہ بھی بتایا کہ صدر جارج بش نے ان کو افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ایک ساتھ افطار کے لۓ مدعو کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات افغانستان کے ساتھ مسائل کو رفع کرنے میں بذات خود اہم ہوگی۔ ’میں نے حال میں کابل کے دورے میں ان مسائل کو دور کرلیا ہے لیکن صدر بش کے ساتھ اس ملاقات دوران اس کی مزید توثیق ہو جائے گی۔‘ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کیوبا کے وزیر خارجہ فلیپ پیئرز روک نے کہا کہ اس تنظیم کو اپنی صفیں درست کرنی ہونگی تاکہ صنعت یافتہ ملکوں کے دباؤ کا سامنا کرسکے۔ رکن ملکوں کے سینیئر افسروں کے اجلاس کے بعد اب جمعے کو سربراہان حکومت کا اجلاس ہوگا جس میں توقع ہے کہ توانائی کے متبادل وسائل، ایران کے جوہری پروگرام اور پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے مذاکرات پر غور کیا جائے گا۔ یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کے آیا صدر فیدیل کاسترو، جن کا حال میں آپریشن ہوا تھا، ان رہنماؤں کی ضیافت میں شرکت کرسکیں گے یا نہیں۔ | اسی بارے میں مشرف کا دورہِ کابل: کیا کھویا کیا پایا؟08 September, 2006 | پاکستان طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر06 September, 2006 | پاکستان امن کا موقع ضائع نہ کریں: مشرف18 July, 2006 | پاکستان جنرل پرویز مشرف کا سوشلزم18 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||