BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی حل نہیں: پاکستان

امریکی فوجی
افغانستان میں حالیہ ہفتوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے
پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے پانچ برس کی تکمیل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ اس جنگ میں قلیل المدتی منصوبوں اور صرف فوجی کارروائیوں کی مدد سے فتح حاصل نہیں کی جاتی بلکہ دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ ان عوامل کا خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے لوگ دہشت گردی کی جانب مائل ہوتے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا اب پاکستان کو ’دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ‘ پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان پانچ برسوں میں دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ہمارے کردار کی تعریف دنیا بھر میں کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پانچ سالوں میں صرف ’شارٹ ٹرم‘ اقدامات کیئے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے جبکہ پاکستان کا مؤقف ابتدا سے یہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے ایک جامع حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیئے ان وجوہات کا جائزہ لیا جانا چاہیئے جن کی بدولت دہشت گرد تنظیمیں عام عوام کے ذہنوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا لیکن ان کے خلاف کارروائی کے علاوہ سیاسی اختلافات اور لوگوں میں پائی جانے والے احساسِ محرومی جیسے مسائل کے حل کی بھی ضرورت ہے۔

شمالی وزیرستان کے امن معاہدے کے بارے میں ایک سوال پر دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ یہ معاہدہ حکومتِ پاکستان اور طالبان کے مابین ہوا ہے بلکہ دراصل یہ معاہدہ صوبہ سرحد کی حکومت اور قبائلی عمائدین کے درمیان طے پایا ہے اور یہ پاکستان کا ایک اندرونی معاملہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صدر مشرف کے دورۂ افغانستان میں صدر اور ان کے افغان ہم منصب کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی ہے اور افغان صدر نے بھی وزیرستان کے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس میں قبائلی عمائدین نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کی کسی حالت میں حمایت نہیں کی جائے گی۔ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن سے قبل بھی یہ امن معاہدہ کیا گیا تھا تاہم اس وقت قبائلیوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔

لبنان میں پاکستانی فوجیوں کا دستہ بھیجنے کے معاملے پر تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ انجینیئروں کا یہ دستہ لبنانی حکام کی درخواست پر بھیجا جا رہا ہے اور اس کی ذمہ داریوں میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں موجود بموں کی تلاش، بارودی سرنگوں کی صفائی اور کلسٹر بموں کی تلاش کا کام شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان حکومت نے اب تک جنوبی لبنان میں چار سو ستاون ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں کلسٹر بم موجود ہیں۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ یہ پاکستانی فوجی اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاہم انہیں امن فوج کا حصہ نہیں تصور کیا جائےگا۔

اسی بارے میں
’امریکہ کی جنگ، 92,469 ہلاک‘
11 September, 2006 | صفحۂ اول
9/11: پاکستانی شہری امیر ہو گئے
11 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد