BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 September, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زندگی موت کی ریس

موٹر سائیکل ریس
ایک سال کے دوران ستر نوجوان ہلاک اور نو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سڑکوں پر ہونےوالی بلا اجازت موٹر سائیکل سپورٹس میں آٹھ ماہ کے دوران کوئی سترکے قریب نوجوان ہلاک ہوچکے ہیں اور اوسطاً ہر ہفتے دو نوجوان موٹرسائیکل پر کرتب دکھاتے ہوئے یا آپس میں ریس لگاتے ہوئے حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔

لاہور کے منچلے موٹرسائیکلسٹ کسی بھی دن، کسی بھی وقت مال روڈ، جیل روڈ، کینال روڈ، فیروز پور روڈ ، ڈیفنس، شیرپاؤ پل یا میاں میر پل یا کہیں بھی اپنی فراٹے بھرتی موٹر سائیکلوں کو ہوا سے اونچی اڑنے کی کوشش میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد پونے تین سو کے قریب ہے یعنی ہر ہفتےاوسطا آٹھ نو لڑکے زخمی ہوجاتے ہیں البتہ ان میں سے کتنے اپنی ہڈی پسلی تڑوا بیٹھتےہیں اور کتنے عمر بھر کے لیے معذور ہوجاتےہیں اس کے اعدادوشمار ابھی پولیس نے اکٹھے نہیں کیے ہیں۔

ایکسیڈنٹ
کئی مرتبہ کرتب دکھانے کے چکر میں ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں

یہ کس قسم کی سپورٹس ہے جو اتنی جان لیوا ہوجانے کےباوجود گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ لاہوری نوجوانوں میں مقبول ہوتی چلی جارہی ہے۔ اگر کسی کو اس کا ایک نظارہ دیکھنے کےشوق ہو تو اتوار کی صبح پوپھٹتے نہر پر مسلم ٹاؤن موڑ یا ڈاکٹرز ہسپتال انڈر پاس پہنچ جائے۔

اتوار کو یہ نظارہ میں نے بھی دیکھا تھا۔ چار پانچ سو غراتی ہوئی موٹر سائیکلیں زن سے گذر گئیں کبھی کوئی ٹولی ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلاتی نظر آئی تو کبھی ڈیڑھ سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتارپر ہاتھ چھوڑ کر موٹر سائیکل دکھائی دیئے تو کبھی تین چار موٹر سائیکل سوار گدی پر لیٹ کر اتنی ہی تیز رفتار موٹر سائیکل چلاتے دکھائی دیئے۔

اتنے پرخطر کرتب اور حد سے زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے والے کسی بھی موٹرسائیکلسٹ نے جسم پر حفاظتی بند تو دور کی بات ہے ہلمٹ تک نہیں پہن رکھا تھا۔

لاہور کے ضلعی رابطہ افسر میاں محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کی ا یک بڑی وجہ کسی قسم کے حفاظتی اقدامات کو خاطر میں نہ لانا ہے اور اسی وجہ سے انہیں روکنے کے لیئے پولیس کی نفری تعینات کی جاتی ہے۔‘

ایک پہیہ پر موٹر سائیکل چلانے والے علی عمران نے کہا کہ ’ہلمٹ پہننا تو بڑی توہین کی بات ہے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم ڈر گئے۔‘

نعمان
گزشتہ برس نوجوان نعمان ریس لگاتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

انہوں نے کہا کہ’موت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ویلنگ کرنے کا ہی تو مزہ ہے۔‘

علی عمران آٹھ سال سے ایک پہیہ پر موٹر سائیکل چلا رہے ہیں اور اس عرصے میں انہوں نے اپنے کئی ساتھیوں کو حادثے کا شکار ہوکر ہڈیاں تڑواتے یا جان سے جاتے دیکھا ہے تاہم جب ان کے اپنے عزیز ترین دوست نے ریس لگاتے ہوئے ٹریفک سگنل توڑا سڑک پر گرے اور ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے تو پہلی بار ڈر ان کے دل میں بیٹھا اور انہوں نے موٹر سائیکل کرتب سے توبہ کرلی جو ایک مہینے بعد ہی توڑ بھی دی۔

ناشتے کی ریس
یہ ریس عام طور پر معولی شرط پر ہوتی ہے اور لاہور کے ان منچلے موٹر سائیکل سواروں کی مقبول ترین شرط ’ناشتے ناشتے‘ کی ہے یعنی جو گروپ ہارے گا وہ دوسرے کو لسی کے ساتھ حلوہ پوری یا نہاری یا سری پائے یا بونگ چنے وغیرہ کا ناشتہ کراوئے گا

میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آخر ایسا کیا مزہ ہے جس کی خاطر نوجوان اپنی زندگی جیسی قیمتی متاع لٹائے چلے جا رہے ہیں؟

عمران، جنہیں موٹر سائیکل سواری کا شوق پاکستان کے مشہور موٹرسائیکل سوار سلطان گولڈن کو دیکھ کر ہوا تھا کا کہنا تھا کہ’ شوق کا کوئی مول (قیمت)نہیں ہوتا اور یہ شوق تو اپنی جان سے زیادہ بڑھ کر ہے۔‘

جب میں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ پھر بھی بتائیں تو سہی اس شوق میں کیا ملتا ہے؟ تو موٹر سائیکل سوارعمران نے جواب میں جو الفاظ ادا کیے کچھ یوں تھے۔

’مزہ ہے۔۔۔ انجوائے ہے۔۔۔جہاں جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہیں ،موٹر سائیکل پر نکلتے ہیں تو یار دوست، دوسرے لوگ۔۔۔۔ آگے پیچھے ۔۔۔ یہ وہ۔۔۔ فلاں ۔۔ بھائی جان بس اچھا لگتا ہے۔‘

لاہور میں موٹر سائیکلوں کے مختلف گروپ ہیں اور کوئی اسی کے قریب ایسے سوار ہیں جنہیں ماہر مانا جاتا ہے۔

موٹر سائیکل کی رفتار بڑھانے کے لیئے اس کے انجن میں ایسی تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس سے اس کی رفتار پچیس کلومیٹر فی گھنٹہ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

ایک ماہر نے کہا کہ ’جب موٹرسائیکل ایک سو چھپن فی کلومیٹر تک دوڑے تو تب ہی ریس میں حصہ لینا چاہیے۔‘

ریس کے منتظر
نوجوان ایک ریس کے لیئے جان کی بازی لگا دیتے ہیں

یہ ریس عام طور پر معولی شرط پر ہوتی ہے اور لاہور کے ان منچلے موٹر سائیکل سواروں کی مقبول ترین شرط ’ناشتے ناشتے‘ کی ہے یعنی جو گروپ ہارے گا وہ دوسرے کو لسی کے ساتھ حلوہ پوری یا نہاری یا سری پائے یا بونگ چنے وغیرہ کا ناشتہ کراوئے گا۔

تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ سری پائے کھانے کی شرط جیتنے کے لیئے لاہوری نوجوان اپنی جان داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

تاہم یہ شرط چند سوسے چند ہزار کی بھی ہوسکتی ہے اور موٹر سائیکل کے بدلے موٹر سائیکل بھی ہوسکتی ہے۔

ریس لگانے والے مون کا کہنا ہے کہ شرط تو ثانوی چیز ہے اور یہ صرف ریس کا مزہ بڑھاتی ہے اور کچھ نہیں۔

سوا سال قبل ہلاک ہونے والے ملتان روڈ سکیم موڑ کے ایک پندرہ سالہ نوجوان کا ذکر کرکے ان کی والدہ آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہاکہ’میں نے اپنے بیٹے کو پال پوس کر اسں لیئے جوان نہیں کیا تھا کہ وہ اس طرح سڑک پر دم توڑ جائے۔‘

غمزدہ ماں نے اسے کھیل ماننے سے انکار کر دیا ہے اور کہا کہ’ یہ کوئی کھیل نہیں موت ہے۔‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

ملک ندیم کے دو بھائی الگ الگ حادثات میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ ’ کوئی پابندی نوجوانوں کواس خطرناک ایڈونچر سے نہیں روک سکتی۔‘

ان کے ایک بھائی کی موت بھی دوسرے کو موٹر سائیکل کے شوق سے باز نہ رکھ سکی تھی۔

’پابندی کی خلاف ورزی کرنا اور پولیس کی گاڑی سے بھاگ کر بچنا بھی تو اسی ایڈونچر کا ایک حصہ ہے۔‘

ملک ندیم کے نزدیک اس کا واحد حل یہ ہے کہ حکومت اسے سپورٹس کا درجہ دے اور لڑکوں کو حفاظتی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ نہ کیا گیا تو پھر ان کے بقول لاہور کے منچلے لڑکوں کی موت کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔

اسی بارے میں
رکشہ نہر میں گرنےسے 4 ہلاک
16 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد