اپنے ہی بچوں کے قتل کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پولیس نے ایک شخص ریحان ارشد کو اپنے تین بچوں اور بیوی کے قتل کا ملزم قرار دیا ہے۔ ارشدکو پیر کو سٹوکپورٹ میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ چھتیس سالہ ریحان ارشد کو پولیس نے جمعہ کے روز ہیتھرو کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا جب وہ تھائی لینڈ سے واپس آ رہے تھے۔ مانچسٹر میں پولیس کو بیس اگست کو ایک گھر سے ریحان کی بیوی عظمیٰ ریحان، ان کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی لاش ملی تھی۔ بتیس سالہ عظمیٰ کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ ریحان برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق چاروں ماں بچوں کے سر پر ضرب لگی تھی۔ خیال ہے کہ ان لوگوں کی لاشیں چار ہفتے تک گھر میں پڑی رہیں۔ پولیس نے ابتدائی طور پر ایک چالیس سالہ شخص اور پینتیس سالہ عورت کو حراست میں لیا تھا اور پھر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ پولیس کے مطابق قتل ہونے والا خاندان اٹھارہ ماہ سے اس مکان میں رہائش پذیر تھا۔ | اسی بارے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد قتل24 January, 2005 | پاکستان سگے بھائی پولیس کے ہاتھوں قتل 19 January, 2005 | پاکستان لاہور: ’غیرت کے نام پر لڑکی قتل‘ 10 February, 2005 | پاکستان بھوک سے تنگ ماں اور بچوں کا قتل08 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||