جماعت اسلامی کے زیر اہتمام لبنان پر سیمنار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا ہے کہ معرکہ لبنان و فلسطین میں حزب اللہ کی فتح نے ثابت کردیا ہے کہ مقابلہ کی تیاری ہو اور امت کے مفادات کے حصول کا جذبہ ہو تو بڑی سے بڑی قوت کا مقابلہ بھی ممکن ہے۔ وہ اتوار کے روز پشاور میں جماعت اسلامی پشاور کے زیراہتمام لبنان اورفلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر خورشید نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی ریاست کا وجود ہی غیر قانونی ہے جو امریکہ اور دیگر یورپی قوتوں نے اپنے مفادات کےلیئے قائم کی ہے اور جس کے قیام کے لیئے لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، لاکھوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا اور بقول ان کے ہزاروں کو زبردستی یہودی اور عیسائی بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1948 میں صرف سات فیصد فلسطین پر یہودی ریاست قائم تھی بعد میں اقوام متحدہ کے ذریعے سامراجی قوتوں نے اس ریاست کے رقبے کو 54 فیصد تک وسعت دی جبکہ اسرائیل نے ظلم و جبر کے ذریعے آج 78 فیصد فلسطین پر قبضہ کرلیا ہے۔ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر و امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد سراج الحق، رکن قومی اسمبلی صابر حسین اعوان، ایم این اے پیر نور الحق قادری، ڈاکٹر اقبال خلیل، حکیم عبد الوحید ، شبیر احمد خان اور سید قمر عباس نے کہا کہ اس جنگ میں اقوام متحدہ، سلامتی کونسل ، عرب لیگ اور او آئی سی کا کردار شرمناک رہا اور مسلمان حکمرانوں کا رویہ بھی کفار حکمرانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں رہا۔
مقررین نے بتایا کہ سعودی عرب، اردن اورمصر نے حزب اللہ کی حمایت کی بجائے جنگ کو غلطی قرار دیا لیکن حزب اللہ نے ثابت کردکھایا کہ پختہ ایمانی جذبہ ہو اور دستیاب وسائل کے مطابق تیاری ہو تو اسرائیل نا قابل تسخیر ہرگز نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی تھینک ٹینک مسلمان ملکوں کو کمزور کرنے کےلئے ایک منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت مسلمان ریاستوں کو مذہب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم کرکے چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستیں قائم کرنا مقصود ہے اور نئے نقشے میں بقول ان کے پاکستان، افغانستان ، عراق ، سعودی عرب، ایران اور کچھ دیگر ممالک شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں لبنان کی پاکستان سے مدد کی اپیل10 August, 2006 | پاکستان لبنان: کراچی، پشاور میں مظاہرے05 August, 2006 | پاکستان ’مسلمان ملک لبنان کا دفاع کریں‘04 August, 2006 | پاکستان لبنان حملے: شدید ردعمل کا فقدان 28 July, 2006 | پاکستان لبنان: پاکستانی اخبار عوامی سوچ کے عکاس18 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||