لاش نہیں دی جائے گی: سلطان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے نواب اکبر بگٹی کی لاش کو ان کے ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی تدفین جمعہ کو ڈیرہ بگٹی میں ان کے آبائی قبرستان میں ’قبائلی رسم و رواج‘ کے تحت کر دی جائے گی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے جمعرات کو کوہلو کے غار سے نواب اکبر بگٹی کی لاش نکالے جانے کے بعد بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں کہا کہ جرگے کے فیصلے کے تحت نواب اکبر خان بگٹی کو ڈیرہ بگٹی میں ہی دفن کیاجائے گا۔
نواب اکبر بگٹی کے ورثاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی لاش بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ان کے حوالے کی جائے جہاں ان کے تمام لواحقین موجود ہیں جس کے بعد وہ ان کی تدفین کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ شوکت سلطان نے نواب اکبر بگٹی کے ورثاء کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تدفین خاندانی قبرستان میں ’قبائلی رسم و رواج‘ کے تحت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ نواب اکبر خان بگٹی کی لاش بازیاب ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس بارے میں ان کے ورثاء سے رابط کرکے ان کو بتا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر کی لاش کافی خراب حالت میں ہے اور وہ ایک بڑے پتھر کے نیچے دبی ہوئی پائی گئی تھی۔ اس سوال پر کہ تدفین کے بارے میں جگہ کے انتخاب کا حق تو ورثاء کا ہے میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ ان کی تدفین قبائلی رسم و رواج کے تحت کی جائے گی اور جرگے کا بھی یہ ہی فیصلہ ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی لاش قبائلی رسم و رواج کے تحت کرنے میں حکومت کی دلچسپی کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان ’تدفین جرگے کے مطابق ہوگی‘31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||