ایم ایم اے وزیر کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات نے بلوچستان اسمبلی میں سپیکر سے درخواست کی ہے کہ انہیں حزب اختلاف کے کی کرسیوں پر بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔ صوبائی وزیر بلدیات حافظ حسین احمد کو شکایت ہے کہ ان کے پاس بلدیات کی وزارت کا قلمدان تو ہے لیکن ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے محکمے میں ایک تحصیل میونسپل افسر کا تبادلہ بھی نہیں کرسکتے۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی صدارت آج ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی کر رہے تھے۔ انھوں نے اس درخواست پر کہا کہ سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ جب آ جائیں گے تو اس بارے میں وہ خود فیصلہ کریں گے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اس بارے میں فیصلہ نہیں ہوتا وہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ حافظ حسین احمد شرودی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس کسی قسم کے اختیارات نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے محکمے میں تقرر اور تبادلے بھی ایس اینڈ جی اے ڈی کا محمکہ کرتا ہے جبکہ باقی صوبوں میں یہ اختیارات صوبائی وزیر کے پاس ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ کیا آپ وزارت چھوڑ کر حزب اختلاف کے ساتھ کر سیوں پر بیٹھیں گے تو انھوں نے کہا کہ اس بارے ان کی جماعت یعنی جمعیت علماءاسلام کے قائدین فیصلہ کریں گے یا تو انھیں مکمل اختیارات دیے جائیں اور یا ان کی درخواست منظور کی جائے تاکہ کم از کم وہ حزب اختلاف کے ساتھ بیٹھ کر کچھ بول تو سکیں یہاں تو وہ کوئی بات بھی نہیں کر سکتے۔ | اسی بارے میں کیا کوئٹہ سے گرفتار27 واقعی طالبان ہیں؟16 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں ستائیس ’طالبان‘ گرفتار 15 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے قریب گیس پائپ لائن تباہ12 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا گھیرا؟16 July, 2006 | پاکستان سوئی: تحصیلدار اور دو لیویز اغوا 13 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||