BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 August, 2006, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے وزیر کی دھمکی

کوئٹہ اسمبلی
ایم ایم اے کے وزیر کو شکایت ہے کہ وہ اپنے ماتحت کو بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔
متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات نے بلوچستان اسمبلی میں سپیکر سے درخواست کی ہے کہ انہیں حزب اختلاف کے کی کرسیوں پر بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔

صوبائی وزیر بلدیات حافظ حسین احمد کو شکایت ہے کہ ان کے پاس بلدیات کی وزارت کا قلمدان تو ہے لیکن ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے محکمے میں ایک تحصیل میونسپل افسر کا تبادلہ بھی نہیں کرسکتے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی صدارت آج ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی کر رہے تھے۔ انھوں نے اس درخواست پر کہا کہ سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ جب آ جائیں گے تو اس بارے میں وہ خود فیصلہ کریں گے۔

صوبائی وزیر نے اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اس بارے میں فیصلہ نہیں ہوتا وہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

حافظ حسین احمد شرودی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس کسی قسم کے اختیارات نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے محکمے میں تقرر اور تبادلے بھی ایس اینڈ جی اے ڈی کا محمکہ کرتا ہے جبکہ باقی صوبوں میں یہ اختیارات صوبائی وزیر کے پاس ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا آپ وزارت چھوڑ کر حزب اختلاف کے ساتھ کر سیوں پر بیٹھیں گے تو انھوں نے کہا کہ اس بارے ان کی جماعت یعنی جمعیت علماءاسلام کے قائدین فیصلہ کریں گے یا تو انھیں مکمل اختیارات دیے جائیں اور یا ان کی درخواست منظور کی جائے تاکہ کم از کم وہ حزب اختلاف کے ساتھ بیٹھ کر کچھ بول تو سکیں یہاں تو وہ کوئی بات بھی نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد